حکومت سازی مخصوص نشستوں پر انتخابات کے بعد ہوگی، کائرہ

راولپنڈی (کے ٹو) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات و گورنر گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے مکمل ہونے کے بعد حکومت سازی کی جائے گی، عیدالاضحی کے بعد پہلا اجلاس متوقع ہے، ٹیکنو کریٹ اورخواتین کی نشستوں کے بارے میں فیصلہ ابھی باقی ہے۔ وہ ہفتہ کی صبح منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال زمرد خان کی رہائش گاہ پر منتخب اراکین گلگت بلتستان اسمبلی کے اعزاز میں دئیے گئے ناشتے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ ناشتے کی تقریب کی ابتداءمیں پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن و سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید جو کہ 30 نومبر 2007 ءکو زمرد خان کے گھر آئی تھیں کی یاد میں بے نظیر بھٹو کی روح کے ایصال ثواب کےلئے دعائے مغفرت کی گئی۔ ایم ڈی بیت المال زمرد خان نے گلگت بلتستان اسمبلی کے منتخب اراکین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیں جو مینڈیٹ دیا ہے اس پر پورا اترنے کے لئے تمام وسائل اور صلاحتیں بروئے کار لائیں گے اور بے نظیر بھٹو کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے اپنے خطاب میں تمام منتخب اراکین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پرحل کریں گے اور عوام کو اس پہلی منتخب اسمبلی سے جو توقعات ہیں اس پر بھی پورا اتریں گے۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی عوامی جماعت ہے اور ہمیشہ خدمت کی بنیاد پر آگے بڑھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسمبلی مکمل ہونے کے بعد حکومت سازی کے عمل کو مکمل کریں گے، عیدالاضحی کے بعد اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوگا

گلگت انتخابات: سرکاری نتائج کا اعلان

گلگت: گلگت بلتستان میں الیکشن کمیشن نے انتخابی نتائج کا اعلان کردیا۔ چار متنازع پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ بدھ کو ہوگی۔سرکاری نتائج کا اعلان اڑتالیس گھنٹے تاخیر سے کیا گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان رحیم نواز خان کے اعلان کردہ نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کو گیارہ نشستیں حاصل ہیں۔ دو نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ دو نشستیں ن لیگ کو ملی ہیں۔ ق لیگ نے بھی دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ایم کیو ایم اور جے یو آئی ف کو ایک ایک نشست پر کامیابی ملی ہے۔

پیپلزپارٹی تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اگر پی پی کو دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل ہوجاتی ہے تو گلگت بلتستان میں بھی پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوجائے گی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت ایل اے تین میں چار متنازع پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ اٹھارہ نومبر کو دوبارہ ہوگی۔ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے سلیم تاجک اور شکیل عمر نے الزام عائد کیا تھا کہ الیکشن کمیشن اور دو ضلعوں کی انتظامیہ نے دھاندلی کی ہے جس کے شواہد موجود ہیں

دھاندلی نہ ہوتی تومتحدہ کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے، الطاف حسین

لندن(کے ٹو)متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں ایم کیوایم کی تاریخ ساز کامیابی ظلم کی چکی میں پسنے والے ایک ایک مظلوم اور محروم عوام کی کامیابی ہے اور یہ کامیابی اس بات کی نشاندہی کررہی ہے کہ اب غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کی حکمرانی کا انقلاب پاکستان کا مقدر بن چکا ہے ۔انشاءاللہ وہ دن بہت جلد آئے گا جب ملک سے متحدہ قومی موومنٹ کے ہاتھوں جاگیرداروں ، وڈیروں ، ناجائز دولت کمانے والے سرمایہ داروں اور لٹیروںکے تسلط کا خاتمہ ہوگا اور ملک کے چپے چپے میں حق پرستی کے نعرے گونجیں گے ۔یہ بات انہوں نے گزشتہ روز حیدرآباد میں ایم کیوایم کے کارکنان اور ہمدردوںکے ایک بڑے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی جو انہیں گلگت بلتستان کے انتخابات میں کامیابی کی مبارکباد دینے کیلئے ایم کیوایم حیدرآباد زونل آفس پہنچے تھے ۔اجتماع سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہاکہ گلگت بلتستان کی 62 سالہ تاریخ میں ایم کیوایم نے پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا اور وہاں اللہ تعالیٰ نے ایم کیوایم کوکامیابی عطا کی ۔ انہوںنے مزید کہاکہ اگر انتخابات میں دھاندلی نہ ہوتی تو متحدہ قومی موومنٹ کے نامزد امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے لیکن دھاندلی کے باوجود ایم کیوایم کے نامزد امیدواروں نے جن جن حلقوںمیں دوسری ، تیسری اور چوتھی پوزیشن حاصل کی وہ نہ صرف ایم کیوایم کی کامیابی ہے بلکہ ایم کیوایم پر گلگت بلتستان کے عوام کے اعتماد کا کھلاثبوت بھی ہے کہ اب غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کی حکمرانی کا انقلاب پاکستان کا مقدر بن چکا ہے اورانشاءاللہ وہ دن بہت جلد آئے گا جب ملک سے متحدہ قومی موومنٹ کے ہاتھوں جاگیرداروں ، وڈیروں ، ناجائز دولت کمانے والے سرمایہ داروں اور لٹیروں کے تسلط کا خاتمہ ہوگااور ملک کے چپے چپے میں حق پرستی کے نعرے گونجیں گے۔الطاف حسین نے کہاکہ جہاں یہ ملک بھر کے مظلوم عوام کی کامیابی ہے وہاں پاکستان کی مسلح افواج ، رینجرز ، سیکوریٹی کے اداروں ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروںکی بھی کامیابی ہے جودہشت گردی کے خاتمہ کیلئے مصروف عمل ہیں، ملک کی خدمت کررہے ہیں، حق اور سچ کا ساتھ دیتے ہیںاور پاکستان کی بقاءوسلامتی کیلئے اپنی جانیں نثارکررہے ہیں۔ الطاف حسین نے ایم کیوایم کے تمام کارکنان وہمدرد عوام سے اپیل کی کہ وہ گلگت بلتستان میں ایم کیوایم کی تاریخی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کریں جبکہ ہندو، عیسائی، سکھ او ردیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے کارکنان وعوام اپنی اپنی عبادت گاہوں میں شکرانہ ادا کریں اور متحدہ قومی موومنٹ کی کامیابی کیلئے دعائیں بھی کریں

انتخابی نتائج تسلیم، گلگت بلتستان میںقومی حکومت بنائی جائے، چوہدری شجاعت

اسلام آباد (کے ٹو) مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے تجویز دی ہے کہ گلگت بلتستان میں قومی حکومت تشکیل دی جائے تاکہ عالمی سطح پر ایک مثبت پیغام جائے۔ ہفتہ کو اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے نو منتخب نمائندوں کے ساتھ صلاح مشورہ کرکے فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستان مسلم لیگ کو گلگت بلتستان کی حکومت میں کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔ چوہدری شجاعت حسین نے اس رائے کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان کی حساس نوعیت کے مدنظر وہاں ایک قومی حکومت بنائی جائے تاکہ عالمی سطح پر ایک مثبت پیغام جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تحفظات کے باوجود انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر سید مہدی شاہ نے کہا ہے کہ حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی علاقے کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آتی ہے اس لئے ہم دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت قائم کریں گئے جبکہ وزیر اعلیٰ پیپلز پارٹی سے ہوگا انہوں کہا کہ جے یو آئی (ف) اور ایم کیو ایم نے انتخابات میں ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے اور دونوں جماعتیں مرکز میں پاکستان پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعتیں ہیں اس لئے گلگت بلتستان میں بھی ان دونوں جماعتوں کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی اپنی حکومت قائم کرے گی جبکہ وزیر اعلی پیپلز پارٹی سے ہو گ

Source GEO NEWS

غیر سرکاری نتائج آنا شروع، سیاسی جماعتوں کے دھندلی کے الزامات


گلگت بلتستان…گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج آناشروع ہوگئے ہیں اور اب تک کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق7 امیدوار کامیاب ہوگئے ۔ ایل اے2گلگت2 سے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار دیدار علی4 ہزار535ووٹ لیکرکامیاب ہوگئے ہیں۔ ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار جمیل احمد کو2 ہزار774 ووٹ ملے۔ ایل اے6گلگت6 سے پی پی کے وزیربیگ تین ہزار571 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے۔ ان کے مدمقابل ایم کیو ایم کے کامل جان کو2 ہزار240 ووٹ ملے۔ ایل اے7اسکردو1 سے پیپلز پارٹی کے سیدمہدی شاہ5 ہزار595ووٹ لیکرکامیاب قرار پائے۔ مسلم لیگ(ق)کے وزیرولایت2 ہزار270 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ ایل اے9اسکردو3 سے پی پی کے وزیر شکیل نے انتخابی معرکہ مارلیا۔ ان کے مخالف امیدوار مسلم لیگ(ن)کے حاجی فدا محمد ناشاد دوسرے نمبر پررہے۔ایل اے24 گانچھے3 کی نشست پر پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل انجینئر کامیاب ہوگئے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے محمد شفیق دوسرے نمبر پر رہے۔ایل اے18 دیامر4 سے جے یو آئی کے امیدوار گلبر خان نے2797 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار ملک محمد مسکین کو1535 ووٹ ملے۔ایل اے23گانچھے2 سے مسلم لیگ(ن)لیگ کے محمد عبداللہ4 ہزار240 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ(ن) کی آمنہ انصاری نے ہزار963 ووٹ حاص

گلگت بلتستان : پولنگ جاری

لگت: گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے پہلے عام انتخابات کے لئے تئیس نشستوں پرپولنگ جاری ہے۔ گلگت بلتستان کے حلقہ دیا میرایک کے پولنگ اسٹیشن پر متحدہ قومی مومنٹ کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراض کے بعد پولنگ روک دی گئی۔ گلگت بلتستان میں تئیس نشستوں کے لئے ڈھائی سو سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔ سات لاکھ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے چوبیس میں سے تئیس حلقوں میں پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوگئی۔ گلگت بلتستان ریجن چھ اضلاع پر مشتمل ہے جن میں دیامر ، استور ، گھانچے ، اسکردو ، گلگت اور غذر شامل ہیں۔ کل آبادی گیارہ لاکھ چار ہزار ایک سو نوے نفوس پر مشتمل ہے۔ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد سات لاکھ سترہ ہزار دو سو چھیاسی ہے جن میں تین لاکھ چوراسی ہزار نو سو نو مرد اور تین لاکھ بتیس ہزار تین سو ستتر خواتین شامل ہیں۔

الیکشن کے لئے نو سو بیاسی پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ دو سو ترپن پولنگ اسٹیشن مردوں اور دو سو اٹھاون خواتین کے لئے مخصوص ہوں گے ، باقی پولنگ اسٹیشن پر مرد اور خواتین دونوں حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی کل نشستیں چوبیس ہیں۔ اسمبلی کے حلقہ ایک سے چھ تک نشستیں ضلع گلگت میں واقع ہیں، جس کے لئے دو سو اناسی پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ ضلع اسکردو کی چھ نشستوں کے لئے دو سو چونسٹھ پولنگ اسٹیشن پر عوام حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

اسمبلی کے حلقہ نمبر تیرہ اور چودہ ضلع استور کی حدود میں واقع ہیں اور ضلع میں اسی پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ ضلع دیامر کی چار نشستوں کے لئے ترانوے پولنگ اسٹیشن ہوں گے جہاں عوام اپنا ووٹ کاسٹ کرسکیں گے۔ ضلع غذر میں تین حلقے ہیں ،اس کے لئے ایک سو ستائیس پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں تاہم حلقہ نمبر انیس پر ایم کیو ایم کے امیدوار کی وفات کے باعث الیکشن ملتوی کردیا گیا ہے۔

اسمبلی کی آخری تین نشستیں ضلع گھانچے میں واقع ہیں جہاں ایک سو چھتیس پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان کے تاریخ ساز الیکشن میں حصہ لینے کے لئے دس سیاسی جماعتوں کے ننانوے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ جن میں پیپلز پارٹی کے تئیس ، ایم کیو ایم کے بیس ، مسلم لیگ ن کے پندرہ ، مسلم لیگ ق کے چودہ ، گلگت بلتستان ڈیموکریٹک الائنس کے دس ، جے یو آئی (ایف) کے چھ ، بی این ایف کے چار ، اے این پی کے تین اور جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے دو دو امیدوار شامل ہیں۔

آزاد امیدواروں کی تعداد ایک سو اکسٹھ ہے۔ اسمبلی کے ایک سو ترپن پولنگ اسٹیشنزکو حساس جبکہ ایک سو انیس کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ پولنگ اسٹیشن پر پانچ ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات ہوں گے

گلگت بلتستان: پولنگ آج ہوگی

گلگت: گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے پہلے عام انتخابات کے لئے پولنگ آج ہورہی ہے، تئیس نشستوں کے لئے ڈھائی سو سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔ سات لاکھ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ انتظامات مکمل کرلئے گئے۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے چوبیس میں سے تئیس حلقوں میں پولنگ صبح نو بجے شروع ہوگی۔ گلگت بلتستان ریجن چھ اضلاع پر مشتمل ہے جن میں دیامر ، استور ، گھانچے ، اسکردو ، گلگت اور غذر شامل ہیں۔ کل آبادی گیارہ لاکھ چار ہزار ایک سو نوے نفوس پر مشتمل ہے۔ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد سات لاکھ سترہ ہزار دو سو چھیاسی ہے جن میں تین لاکھ چوراسی ہزار نو سو نو مرد اور تین لاکھ بتیس ہزار تین سو ستتر خواتین شامل ہیں۔

الیکشن کے لئے نو سو بیاسی پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ دو سو ترپن پولنگ اسٹیشن مردوں اور دو سو اٹھاون خواتین کے لئے مخصوص ہوں گے ، باقی پولنگ اسٹیشن پر مرد اور خواتین دونوں حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی کل نشستیں چوبیس ہیں۔ اسمبلی کے حلقہ ایک سے چھ تک نشستیں ضلع گلگت میں واقع ہیں، جس کے لئے دو سو اناسی پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ ضلع اسکردو کی چھ نشستوں کے لئے دو سو چونسٹھ پولنگ اسٹیشن پر عوام حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اسمبلی کے حلقہ نمبر تیرہ اور چودہ ضلع استور کی حدود میں واقع ہیں اور ضلع میں اسی پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ ضلع دیامر کی چار نشستوں کے لئے ترانوے پولنگ اسٹیشن ہوں گے جہاں عوام اپنا ووٹ کاسٹ کرسکیں گے۔ ضلع غذر میں تین حلقے ہیں ،اس کے لئے ایک سو ستائیس پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں تاہم حلقہ نمبر انیس پر ایم کیو ایم کے امیدوار کی وفات کے باعث الیکشن ملتوی کردیا گیا ہے۔

اسمبلی کی آخری تین نشستیں ضلع گھانچے میں واقع ہیں جہاں ایک سو چھتیس پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان کے تاریخ ساز الیکشن میں حصہ لینے کے لئے دس سیاسی جماعتوں کے ننانوے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ جن میں پیپلز پارٹی کے تئیس ، ایم کیو ایم کے بیس ، مسلم لیگ ن کے پندرہ ، مسلم لیگ ق کے چودہ ، گلگت بلتستان ڈیموکریٹک الائنس کے دس ، جے یو آئی (ایف) کے چھ ، بی این ایف کے چار ، اے این پی کے تین اور جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے دو دو امیدوار شامل ہیں۔ آزاد امیدواروں کی تعداد ایک سو اکسٹھ ہے۔ اسمبلی کے ایک سو ترپن پولنگ اسٹیشنزکو حساس جبکہ ایک سو انیس کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ پولنگ اسٹیشن پر پانچ ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات ہوں گے

گلگت بلتستان میں کل پولنگ کیلئے انتظامات مکمل کر لئے گئے

گلگت . . . گلگت بلتستان قانون ساز کونسل کو اسمبلی کا درجہ ملنے کے بعدپہلے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔24نشستوں میں سے حلقہ نمبر ایل اے19غذر1میں ایم کیو ایم کے امیدوار کے انتقال کے بعد23 نشستوں پر ووٹنگ کل ہورہی ہے۔6 اضلاع گلگت، اسکردو،دیامر،گھانچھے،غذر اور استور پر مشتمل گلگت بلتستان کی کل آبادی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق11لاکھ4ہزار190نفوس پر مشتمل ہے جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعدادسات لاکھ17ہزار286ہے جس میں میل ووٹرز کی تعداد3لاکھ84ہزار909جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد3لاکھ32ہزار377ہے ۔ کل ہونے والے انتخابات میں دس سیاسی جماعتوں کے99جبکہ165امیدوار آزاد حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں،جن میں پیپلز پارٹی کے23،،متحدہ قومی موومنٹ کے18،،مسلم لیگ ن کے15،،مسلم لیگ ق کے14،اے این پی کے چار، جے یوآئی ف کے3،،تحریک انصاف کے2،جماعت اسلامی کے ایک اور قوم پرستوں کے اتحاد گلگت بلتستان ڈیموکریٹک الائینس کے6امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔ جمعرات کے روز ہونے والے انتخابات میں3خواتین بھی جنرل نشستوں پر حصہ لے رہی ہیں جن میں مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر ایل اے23گھانچھے2میں آمنہ بی بی کے علاوہ دو خواتین آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ووٹنگ کے لیے تمام6 اضلاع میں ایک ہزار22 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ مردوں کے لیے2 سو58 جبکہ خواتین کے لیے2 سو53 پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں۔ان میں سے153 پولنگ اسٹیشنز کو حساس جبکہ119 کو انتہائی حساس قراردیاگیا ہے۔الیکشن کمشنر گلگت بلتستان رحیم نواز خان درانی اور اے آئی جی پولیس حاجت میر کے مطابق الیکشن اور سیکیورٹی کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔ 1994 ،1999 اور سال2004 کے بعد گلگت بلتستان میں یہ چوتھی مرتبہ جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہورہے ہیں جس میں دوسری سیاسی پارٹیوں کے علاوہ قوم پرست امیدوار بھی ڈیموکریٹک الائنس کے تحت ایک ہی انتخابی نشان سے میدان میں موجود ہیں جبکہ اس سے قبل قوم پرستوں نے ہر مرتبہ انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔گلگت بلتستان میں12نومبر کو ہونے والے انتخابات کی ایک اور خاص بات یہ بھی ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے18نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے گئے ہیں جو ایک غیرمعمولی بات ہے۔انتخابی مہم کے دوران پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ نون ،مسلم لیگ ق ،اور متحدہ قومی موومنٹ سمیت انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی پارٹیوں کی جانب سے جہاں اپنے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا گیا وہاں آزاد امیدواروں نے بھی علاقے کی ترقی کے لیے وعدے کیے ہیں، تاہم یہاں کے ووٹر اپنی نمائیدگی کے لیے کسے بہتر خیال کرتے ہیں اس کا اظہار وہ کل ہونے والے انتخابات میں کریں گے