گلگت ( کے ٹو ) قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی سے11طلباءکو نکالے جانے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کے اقدام کے خلاف سینکڑوں طلباء وطالبات نے کلاسوں کابائیکاٹ کردیا اور احتجاجی دھرنا دیا بدھ کے روز قراقرم یونیورسٹی کے طلباءوطالبات یونیورسٹی کے کیمپس کے اندرجمع ہوگئے طلباءوطالبات کاموقف تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے11طلبا کو یونیورسٹی سے نکال کران کے مستقبل کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے یونیورسٹی سے نکالے گئے اکثر طلبا اس سال فارغ ہونے والے تھے انہوں نے کہا کہ اکثریونیورسٹیوں میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں لیکن ان کو یونیورسٹی سے فارغ نہیں کیاجاتا ہے بلکہ ان کو کوئی معمولی سزا دی جاتی ہے لڑائی جھگڑے قابل مذمت اقدام ہے اس طرح کے سلسلوں کو روکنے ے لئے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ضروت ہے قبل ازیں احتجاجی دھرنا دینے والے طلبا وطالبات نے ایک دس رکنی کمیٹی تشکیل دی اوریونیورسٹی کے ڈین پروفیسرڈاکٹر سلیم خان سے ملاقات کی اس موقعہ پرڈین نے کہا کہ یونیورسٹی سے نکالے گئے طلباءکے والدین کوچاہیے کہ وہ ہمارے پاس آئیں تاکہ ہم ان کے والدین سے ملے اور ان کے بچوں کے بارے میں ہم ان کو بتاسکیں کہ وہ یونیورسٹی میں کیاکرتے ہیں ڈاکٹرسلیم نے کہا کہ اگر اس طرح کے حالات کاتسلسل جاری رہا تو ہم مجبوراً یونیورسٹی کے کیمپس کو سکردو تبدیل کرینگے اور اس کوپوسٹ گریجویٹ کالج بنائیں گے انہوں نے مزید کہاکہ یونیورسٹی سے نکالے گئے 11طلباءکی وجہ سے پوری یونیورسٹی کاماحول خراب ہورہا ہے اوردیگر 22سوطلباءوطالبات کا مستقبل تباہ ہورہا ہے انہوں نے مزید کہاکہ ایک مخصوص گروپ ہے جو یونیورسٹی کے ماحول کوخراب کرنے کی کوشش کررہا ہیں ا ور معاملے کومذہبی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے طلباء وطالبات کو چاہیے کہ یونیورسٹی کا ماحول خراب کرنے والوں کی نشاندہی کریں اور قیام امن کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں انہوں نے مزید کہاکہ یونیورسٹی کے حالات براہ راست گلگت شہر پر اثرانداز ہوتے ہیں اس لئے ہمیں کوشش کرنا چانا چاہیے کہ یونیورسٹی کے ماحول کو زیادہ سے زیادہ بہتر اورمثالی بنایا جائے تاکہ علاقے میں قیام امن پر مثبت اثرات مرتب ہوں