گلگت (کے ٹو) ضلع غذر سے ملحقہ ضلع دیامر اورسوات سے ملنے والی پہاڑی انتظامی سرحدوں میں14چوکیاں قائم کرکے بھاری تعداد میں مسلح پولیس اہلکاروں کوتعینات کردیا گیا ہے ، ان چوکیوں سے کسی بھی مشتبہ شخص کے ضلع غذر میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے ، پولیس ذرائع کے مطابق ضلع غذر سے سوات وادی کالام سے ملنے والے دو اہم زمینی راستوں لنگر اورہندرپ میں پولیس کی چوکیاں قائم کردی گئی ہیں اوراس راستے سے کوئی بھی شدت پسند سوات سے ضلع غذر میں داخل نہیں ہوسکتا ہے ، ذرائع کے مطابق ان دنوں پہاڑی پیدل راستوں کے ذریعے12 سے15گھنٹے پیدل سفر طے کر کے کالام سے غذر تک کوئی بھی شخص آسکتا ہے ، ان راستوں پر کسی بھی شخص کی پیدل آمد ورفت کو روکنے کیلئے اسلحے سے لیس پولیس اہلکاروں کوچوکس کردیاگیا ہے جبکہ دیگر8 چوکیاں ضلع دیامر کے تانگیر، داریل اور کھنبری سے ملنے والے راستوں میں قائم کی گئی ہیں ، سنگل نالے میں4چوکیاں ، رنوشن میں ایک چوکی بتھر یت میں2چوکیاں چھشٹی نالے میں3 چوکیاں قائم کی گئی ہیں اس طرح ایک پولیس چوکی چترال اورافغانستان کی واخان پٹی سے ملنے والے گاﺅں درکوت کے پیدل پہاڑی راستے میں قائم کرکے وہاں پربھی کسی بھی غیر مقامی شخص کی آمد کو روکنے کیلئے پولیس جوانوں کوالرٹ کردیا گیاہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق واخان سرحد کے سوختر آباد سے ملنے والے راستے میں برف زیاد ہ ہے اوربرف پگھلنے کے بعد سوختر آباد کے راستے میں بھی پولیس چوکی قائم کی جائے گی ، گلگت میں پولیس ذرائع نے مزید بتایا کہ ان عارضی اورگرمیوں کے موسم میں قائم کی گئی چوکیوں پر115 سے زائد پولیس اہلکاروں اورافسران کوتعینات کیا گیا ہے ، انہوں نے مزید بتایا کہ شندور ٹاپ سے ضلع غذر میں داخل ہونے والے راستے میں قائم چیک پوسٹ پر بھی چیکنگ سخت کردی گئی ہے۔