گلگت(کے ٹو) سیکرٹری داخلہ شمالی علاقہ جات کیپٹن (ر) عثمان یونس نے ہفتہ کے روز گلگت شہر میں رونما ہونے والے واقعات سے متعلق انتظامیہ کاموقف بیان کرتے ہوئے کہاکہ چونکہ صادق علی نامی نوجوان کی موت پولیس کی تحویل میں اور ہسپتال میں واقع ہوئی اس لیے انتظامیہ نے لاش کے پوسٹمارٹم کی تیاریاں مکمل کی تھیں اور یہ تاثر اورالزام درست نہیں کہ انتظامیہ نے پوسٹمارٹم کی اجازت نہیں دی تھی کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے ہو
م سیکرٹری نے کہا کہ میں نے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا فیصلہ کیا تھا جس کا ا علان پوسٹمارٹم رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد ہی ممکن تھا مگرلاش کو پوسٹمارٹم کے بغیر اٹھاکر لے جایا گیا اور سپریم اپیلٹ کورٹ کے سامنے دھرنے اور بعدازاں 4گھنٹے بعد دوبارہ ہسپتال لاکرپوسٹمارٹم کروایا گیا کیپٹن(ر) عثمان یونس نے کہا کہ میں شمالی علاقہ جات کی انتظامیہ کی جانب سے اعلان کرتاہوں کہ صادق علی کی موت کے اسباب کوہرگز نہیں چھپایا جائے گا اور پوسٹمارٹم رپورٹ کی روشنی میں تشدد ثابت ہونے کی صورت میں نہ صرف واقعے کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں گی بلکہ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت ترین کارروائی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ہی یا تاخیر نہیں کی جائے گی انہوںنے کہاکہ گلگت کو بدامنی اور انتشار سے بچانے کے علمائے کرام عمائدین اورمیڈیا سے کردارادا کرنے کی اپیل کی
One Comment
yam
hm sb janab sadiq ali ke na govar khabar see afsurda ha aur in ki asall sawab k lie dua goo ha…