گلگت(رضوان علی) گلگت پولیس کے تشدد کے نتیجے میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے واقعے کے خلاف گلگت شہر میں زبردست احتجاج کیا گیا شہر میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے جگہ جگہ پتھر ڈال کر رکاوٹیں کھڑی کرکے اور جابجا ٹائر جلا کر شہر کے داخلی اور خارجی راستوں سمیت اندرون شہر کی تمام رابطہ سڑکوں کو بند کردیا جس کی وجہ سے پورا گلگت شہر مفلوج ہوکررہ گیا 10روز تک پولیس اور دیگر اداروں کے شدید اور انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بننے والے جعفر آباد نگر
2 کے24 سالہ نوجوان صادق علی نے خوفناک تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے پولیس کی ہی کی تحویل میں ہفتہ کی صبح ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں دم توڑ دیا واقعے کی اطلاع ملتے ہی ہسپتال جاکر لاش کا معائنہ کرنے والے مقامی صحافیوں کے مطابق صادق علی کے جسم کے نازک حصوں سمیت مختلف جگہوں پر شدید تشدد کے باعث زخموں کے متعدد نشانات واضح طورپر نظر آئے 13 جون کو سول سیکرٹریٹ کے ملازم انور جان کے قتل کے بعد صادق علی کو17 جون کو خزانہ روڈ گلگت سے گرفتار کرکے عدالت سے10روزکا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا تھا تاہم صادق علی کی خفیہ مقام پر تفتیش کی گئی اور دوران تفتیش صادق علی کی حالت خراب ہونے پر اسے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب تقریباً12بجے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لے جا کر داخل کردیا جہاں صادق علی تشدد سے ہونے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہفتہ کی صبح اپنے خالق حقیقی سے جاملے پولیس تشدد اور پولیس ہی کی تحویل میں نوجوان کی ہلاکت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور آناً فاناً شہر کے تمام کاروباری مراکز بند ہوگئے اورسڑکوں سے ٹریفک غائب ہوگئی جبکہ نوجوانوں نے شہر میں داخل ہونے والے تمام راستوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا متعدد مقامات پر ہونے والے مظاہروں کے دوران انتظامیہ مردہ باد پولیس مردہ باد کے نعرے لگائے جاتے رہے یہ سلسلہ سارا دن جاری رہا جبکہ پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے کی طرف سے صورت حال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنا تو دور کی بات ہے انہوں نے کہیں نظرآنا بھی مناسب نہ سمجھا اس طرح پولیس تشدد سے نوجوان کی ہلاکت کے باعث ہونے والی توڑ پھوڑ کے واقعات اورہنگامے تھم جانے کے بعد بھی شدید خوف وہراس اورکشیدگی کی وجہ سے سکوت کی کیفیت برقرار رہی شہر کی سڑکیں ویران اورگلیاں سنسان نظرآئیں ۔اس خطرناک صورتحال کا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ دیگر مکاتب فکر کے لوگوں نے انتہائی صبروتحمل کے ساتھ اس صورتحال کا سامنا کیا اور نہ صرف غیر جانب داری اوربرداشت کامظاہرہ کرتے ہوئے کوئی ردعمل ظاہر نہ کرکے کسی بھی قسم کے ممکنہ اورمتوقع ناخوشگوار صورتحال کے خطرے کو ٹال دیا جبکہ دیگر مکاتب فکر کی اہم سیاسی اورمذہبی شخصیات نے پولیس تشدد سے نوجوان کی ہلاکت کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار ہمدردی اورذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا دریں اثناءپولیس تشدد کے نتیجے میں جا ں بحق ہونے والے صادق علی کی نماز جنازہ مرکزی امامیہ مسجد ادا کی گئی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد ہفتہ کی شام صادق علی کی میت کو ان کے آبائی گاﺅں جعفر آباد نگر2 روانہ کردیا
2 Comments
gilgit mai es tarh ky dushman anaser sy aman ko taba karny ke sazesh ho raha hy
or sadeq ali ky mouth per garee dok ho raha hy mulzimon ko qarar waqe saza deyni chaye.