پیپلزپارٹی نے 23امیدواروں کوٹکٹ جاری کردئےے

اسلام آباد( کے ٹو) پاکستان پیپلزپارٹی نے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لئے 23 امیدواروں کو ٹکٹ جاری کر دیئے ہیں ضلع گلگت کے حلقہ نمبر1 سے محمد موسیٰ، حلقہ نمبر 2 سے جمیل احمد، حلقہ نمبر3 سے آفتاب حیدر، نگر 1 سے محمد علی اختر2 سے ذوالفقار علی ہنزہ 1 سے وزیر بیگ، غذر 1 سے پیر کرم علی شاہ، حلقہ 2 سے ڈاکٹر علی مدد شیر، حلقہ 3 سے غلام محمد ، دیامر حلقہ 1 سے حاجی فدا اللہ، 2 سے محمد میر جان، حلقہ3 سے شم الرحمان، استور1 سے وزیر عبادت، حلقہ2 سے محمد نصیر خان، سکردو حلقہ1 مہدی شاہ، حلقہ 2 سے شیخ نثار سرباز، حلقہ3 سے وزیرشکیل، حلقہ 4 وزیر حسن ، حلقہ5 سے سید محمد علی شاہ رضوی سکردو 6 سے عمران ندیم ، گانچھے 1 سے محمد جعفر، گانچھے 2 سے غلام حسین ایڈووکیٹ گانچھے3 سے انجیئنر اسماعیل شامل ہیں اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر جہانگیر بدر نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات جیتنے کے بعد حکومت بنائے گی پارٹی نے پیپلزپارٹی کے ان مستحق کارکنوں کو ٹکٹ جاری کئے ہیں جو جیتنے کی پوزیشن میں ہیں منگل کے روز پارٹی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں امیدواروں کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے غریب عوام کیلئے سیاسی اور معاشی اقدامات بلتستان کے غریب عوام کیلئے سیاسی اور معاشی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گی ان علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اصلاحات کو آگے بڑھائیں گے انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں امن وامان کیلئے مزید کوششیں کریں گے انہوں نے کہا کہ دوسری جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے ہمارے دروازے کھلے ہیں جب ضرورت ہوگی اس پر مذاکرات کریں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان میں صاف وشفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے گی دھاندلی کے حوالے سے الزامات میں کوئی صداقت نہیں سرکاری وسائل کا کہیں استعمال نہیں ہو رہا ہے انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کی تعمیروترقی اورخوشحالی کے لئے ذوالفقار علی بھٹو شہید بینظیر سے ذوالفقار علی بھٹو تک نے اصلاحات کی ہیں اور آئندہ بھی ہم جاری رکھیں گے

رحیم درانی چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان مقرر

اسلام آباد ( کے ٹو ) پنجاب کے سابق الیکشن کمشنر رحیم نواز خان درانی چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان تقرر کردیا گیا وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے انہیں چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان لگانے کی منظوری دیدی اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن چند روز کے اندر متوقع ہے ،وزیراعظم سیکرٹریٹ اورالیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق رحیم نوازخاان درانی کو گریڈ20 میں چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان مقررکیا گیا ہے وہ پنجاب کے علاوہ سندھ اورصوبہ سرحد میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں انہیں5 عام انتخابات میں کلیدی حیثیت سے کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے اوران کا شمار الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فرض شناس ، محنتی اورنہایت دیانتدار افسروں میں ہوتا ہے اور چارسال پہلے الیکشن کمشنر پنجاب کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ہیں انہیں بین الاقوامی سطح پر مختلف اہم اجلاسوں ، سیمیناروں اورورکشاپس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کابھی اعزاز حاصل ہے پیشہ ور امور میں مہارت کی وجہ سے کئی اداروں کی طرف سے اعزاز بھی حاصل کرچکے ہیں ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں شفاف ،غیر جانبدارانہ اورآزادانہ انتخابات کرانا چاہتی ہے اور ایک دیانتدار اورغیر جانبدار چیف الیکشن کمشنر کا تقرر اس سلسلے کی کڑی ہے

مسلم لیگ (ن) نے سیاست کوعبادت کے طورپر متعارف کروایا، حفیظ الرحمن

گلگت ( کے ٹو) مسلم لیگ”ن“ گلگت بلتستان کے صدر وامیدوار برائے قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاہے کہ مسلم لیگ”ن“ وہ سیاسی جماعت ہے اس ملک میں سیاست کو عباد ت کے طورپر متعارف کروایاہے اوراصولوں پرسیاست کی ہے ان خیالات کااظہار انہوںنے مسلم لیگ ”ن“ کے مرکزی سیکرٹریٹ میں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوںنے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے دورہ گلگت کے موقع پر سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کرکے جلسے کو کامیاب بنانے کی کوشش کی ہے جس سے ثابت ہوتاہے کہ موجودہ حکومت سابق صدرمشرف کے باقیات کو پورا کررہی ہے انہوں نے الزام لگایا ہے کہ وزیراعظم کے جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے سرکاری ملازمین ا ور سکولوں کے بچوں کو زبردستی جلسے میں شرکت کرنے پرمجبور کردیا تھا موجودہ حکومت عوامی تائید سے مکمل طورپر محروم ہوچکی ہے انہوںنے کہاکہ مسلم لیگ”ن“ قانون سازاسمبلی کے انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اورہمارے کردار کی وجہ سے عوام ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کرینگے انہوںنے کہاکہ حلقہ نمبر2 سے پی پی کے امیدوار الیکشن میں ناکامی کے ڈر سے حلقے سے بھی بھاگ چکے ہیں

آدھے ڈیفالٹر نااہل ، آدھے بچ گئے

گلگت ( کے ٹو ) قانون سازاسمبلی کے انتخابات کے لئے امیدوارں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے دوران بعض حلقوں میں نادہندگان کے کاغذات مسترد اوربعض حلقوں میں منظورکرلئے گئے ایک امیدوار ایسا بھی ہے جس کے کاغذات نامزدگی ایک حلقہ میں منظور اور دوسرے میں مسترد کردیئے گئے ایل اے5- گلگت5- سے سابق مشیر مرزاحسین اورمحمد علی اختر کو ڈیفالٹر قراردے کر ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے ، جبکہ ایل اے4- گلگت4- میں محمد علی اختر کے کاغذات نامزدگی منظور کردیئے گئے ایل اے19-غذر1- سے نوازخان ناجی ، کریم احمد شاد اورمرتضیٰ خان کے کاغذات بنکوں کے نادہند ہ ہونے کی وجہ سے مسترد کردیئے گئے اسی حلقے سے میرنوازخان اوربدرالدین کے کاغذات نامزدگی بھی مختلف وجوہات کی بنا پرمسترد کردئیے گئے ایل اے6- گلگت6-سے نیٹکو کے ایم ڈی ظفراقبال اورکریم اللہ بیگ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے جبکہ اسی حلقے سے سابق چیف ایگزیکٹو میرغضنفر علی خان اورپرنس سلیم خان نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے ایل اے10- سکردو چار سے راجہ شاہ سلطان کے کاغذات نامزدگی ان کی عمر کم ہونے کی وجہ سے مسترد کردئیے گئے ایل اے 11- سکردو5- سے ریٹائرڈ جوائنٹ سیکرٹری سید محمد علی شاہ اورسید امجد علی کے کاغذات نامزدگی اس وجہ سے مسترد کردئیے گئے کہ سرکاری ملازمین پر ریٹائرڈ منٹ کے بعد2سال تک انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی ہے اسی حلقہ سے قوم پرست لیڈر سید حیدرشاہ رضوی کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے حالانکہ بنکوں کی طرف سے ڈیفالٹر کی جو فہرستیں جاری کی گئی ہیں ان میں ان کانام شامل ہے ، ایل اے12- سکردو 6- سے محمد طاہر شگری کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے ، ا سکے علاوہ بھی کئی حلقے ایسے ہیں جہاں ڈیفالٹر کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے

گلگت حلقہ 3، پیپلزپارٹی ، ن لیگ کے امیدواروںاور ڈاکٹر اقبال میںکانٹے دار مقابلہ ہوگا

گلگت(کے ٹو)قانون سازاسمبلی کے حلقہ نمبر3گلگت میں2004ءکے انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد27513تھی مگراب 2009ءکے انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد میں 50فیصد اضافہ متوقع ہے مگرحتمی ووٹرلسٹ تاحال دستیاب نہیں ہے اس حلقے میں 2004ءکے انتخابات میںکل12712ووٹ پول ہوئے تھے اوراس میں سے مظفرعلی ایڈووکیٹ نے 4141ووٹ لیکرکامیابی حاصل کی تھی جبکہ پیپلزپارٹی کے آفتاب حیدرایڈووکیٹ نے 3945اورمسلم لیگ ق کے محمدشریف نے 3078ووٹ حاصل کئے تھے الیکشن کے سرکاری نتائج کے اعلان کے کافی عرصے بعد مظفرعلی ایڈووکیٹ چیف کورٹ کے جج بن گئے جس کے بعد ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کے آفتاب حیدرایڈووکیٹ اس حلقے کے ممبرمنتخب قرارپائے 12نومبر2009ءکے قانون سازاسمبلی کے انتخابات میں اس حلقے سے کئی امیدوارالیکشن لڑنے کی تیاری کررہے ہیں مگرملائیشیا سے سابق رکن کونسل ڈاکٹر اقبال کی گلگت آمد اورالیکشن لڑنے کے اعلان کے بعد کافی ہلچل پیدا ہوگئی ہے اس حلقے سے مسلم لیگ ق کی جانب سے محمدشریف الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کی طرف سے سابق رکن قانون سازاسمبلی آفتاب حیدرایڈووکیٹ اورامریکہ سے آئے ہوئے حلقے کے سیاست دان محبوب علی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اب پیپلزپارٹی ان دونوں میں کسے ٹکٹ دیتی ہے یہ 15اکتوبرکے بعد معلوم ہوسکے گا اسی حلقے سے ایک اورامیدوارکیپٹن(ر)محمدشفیع بھی کافی عرصے سے سرگرم عمل ہیں اورحلقے میں ووٹروں کومتحرک کئے ہوئے ہیں جبکہ دنیورسے ایک اورآزادامیدوارکیپٹن(ر)ہادی بھی کافی سرگرم عمل ہیں اورانہوں نے بھی انتخابی سرگرمیاں تیزترکردی ہیں اہلیان دنیوراورسلطان آباد ورحیم آبادجگلوٹ کی کوشش اورخواہش یہ ہے کہ اس حلقے سے کیپٹن(ر)ہادی اورڈاکٹر محمداقبال میں ایک انتخابات میں حصہ لے اوردوسرا دستبردارہوجائے تاکہ ان کے ووٹ تقسیم نہ ہوسکیں اس حلقے سے کئی اورامیدواربھی الیکشن میں کودنے کی تیاری کررہے ہیں اس حلقے میں اگرمسلم لیگ ن کیپٹن(ر)محمدشفیع کواپنا امیدوارنامزد کرتی ہے توپی پی پی مسلم لیگ ن اورڈاکٹراقبال کے مابین زبردست مقابلہ ہوگااس حلقے میں جوڑتوڑ ابھی شروع ہوا ہے فائنل راﺅنڈسے قبل کئی کھلاڑی آوٹ ہوجائیں گے اورکئی کسی اورامیدوارکے حق میں دستبردار ہوجائیں گے اوراسی دوران سیاسی جماعتیںبھی اپنے اپنے امیدوارکا فیصلہ کرلیں گے جس کے بعد یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کے اس حلقے میں کن کن امیدواروں کے مابین کانٹے دارمقابلہ ہوگااورکس پارٹی کا امیدوارجیتنے کی پوزیشن میں ہے

گلگت حلقہ 3، پیپلزپارٹی ، ن لیگ کے امیدواروںاور ڈاکٹر اقبال میں کانٹے دار مقابلہ ہوگا

گلگت(کے ٹو)قانون سازاسمبلی کے حلقہ نمبر3گلگت میں2004ءکے انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد27513تھی مگراب 2009ءکے انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد میں 50فیصد اضافہ متوقع ہے مگرحتمی ووٹرلسٹ تاحال دستیاب نہیں ہے اس حلقے میں 2004ءکے انتخابات میںکل12712ووٹ پول ہوئے تھے اوراس میں سے مظفرعلی ایڈووکیٹ نے 4141ووٹ لیکرکامیابی حاصل کی تھی جبکہ پیپلزپارٹی کے آفتاب حیدرایڈووکیٹ نے 3945اورمسلم لیگ ق کے محمدشریف نے 3078ووٹ حاصل کئے تھے الیکشن کے سرکاری نتائج کے اعلان کے کافی عرصے بعد مظفرعلی ایڈووکیٹ چیف کورٹ کے جج بن گئے جس کے بعد ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کے آفتاب حیدرایڈووکیٹ اس حلقے کے ممبرمنتخب قرارپائے 12نومبر2009ءکے قانون سازاسمبلی کے انتخابات میں اس حلقے سے کئی امیدوارالیکشن لڑنے کی تیاری کررہے ہیں مگرملائیشیا سے سابق رکن کونسل ڈاکٹر اقبال کی گلگت آمد اورالیکشن لڑنے کے اعلان کے بعد کافی ہلچل پیدا ہوگئی ہے اس حلقے سے مسلم لیگ ق کی جانب سے محمدشریف الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کی طرف سے سابق رکن قانون سازاسمبلی آفتاب حیدرایڈووکیٹ اورامریکہ سے آئے ہوئے حلقے کے سیاست دان محبوب علی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اب پیپلزپارٹی ان دونوں میں کسے ٹکٹ دیتی ہے یہ 15اکتوبرکے بعد معلوم ہوسکے گا اسی حلقے سے ایک اورامیدوارکیپٹن(ر)محمدشفیع بھی کافی عرصے سے سرگرم عمل ہیں اورحلقے میں ووٹروں کومتحرک کئے ہوئے ہیں جبکہ دنیورسے ایک اورآزادامیدوارکیپٹن(ر)ہادی بھی کافی سرگرم عمل ہیں اورانہوں نے بھی انتخابی سرگرمیاں تیزترکردی ہیں اہلیان دنیوراورسلطان آباد ورحیم آبادجگلوٹ کی کوشش اورخواہش یہ ہے کہ اس حلقے سے کیپٹن(ر)ہادی اورڈاکٹر محمداقبال میں ایک انتخابات میں حصہ لے اوردوسرا دستبردارہوجائے تاکہ ان کے ووٹ تقسیم نہ ہوسکیں اس حلقے سے کئی اورامیدواربھی الیکشن میں کودنے کی تیاری کررہے ہیں اس حلقے میں اگرمسلم لیگ ن کیپٹن(ر)محمدشفیع کواپنا امیدوارنامزد کرتی ہے توپی پی پی مسلم لیگ ن اورڈاکٹراقبال کے مابین زبردست مقابلہ ہوگااس حلقے میں جوڑتوڑ ابھی شروع ہوا ہے فائنل راﺅنڈسے قبل کئی کھلاڑی آوٹ ہوجائیں گے اورکئی کسی اورامیدوارکے حق میں دستبردار ہوجائیں گے اوراسی دوران سیاسی جماعتیںبھی اپنے اپنے امیدوارکا فیصلہ کرلیں گے جس کے بعد یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کے اس حلقے میں کن کن امیدواروں کے مابین کانٹے دارمقابلہ ہوگااورکس پارٹی کا امیدوارجیتنے کی پوزیشن میں ہے

گندم پرسبسڈی بحال ،پولیس کی تنخواہیں دوگنی، گلگت، سکردو ائیر پورٹس کوبین الاقوامی ہوائی اڈے کادرجہ دے دیاگیا

اسلام آباد (کے ٹو)اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کو اندرونی خود مختاری کے ذریعے شناخت دے کر شہید ذوالفقار علی بھٹو کا وعدہ پورا کر دیا ہے، قانون ساز اسمبلی کے انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں صاف اور شفاف ہوںگے اور جو پارٹی بھی کامیاب ہوگی اسے اقتدار منتقل کر دیا جائے گا،مفاہمت کی سیاست کو فروغ دے کر جمہوریت کو مضبوط بنانا ہوگا، فرقہ وارایت اور لسانیت میں پڑ کر طاقت ضائع کرنے کی بجائے ہمیں مل کر آگے بڑھنا چاہئے،پاکستان ایک خود مختار اور ذمہ دار ایٹمی قوت ہے،ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر اور برابری کی سطح پر تعلقات کے خواہاں ہیں، مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ وہ منگل کو یہاں لالک جان شہید سٹیڈیم گلگت میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر گورنر گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ ، پیپلز پارٹی گلگت بلتستان سید مہدی شاہ اور سیکرٹری جنرل غلام محمد نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ پیپلز پارٹی ایک نظریے کا نام نہیں ایک تحریک ہے، پیپلز پارٹی کے قائدین نے ملک کیلے بے مثال دیں۔ شہید ذوالفقا علی بھٹو، شہید بی بی اور ان کے بھائیوں کی قربانیوں کی بنیاد پر آج ہماری حکومت قائم ہے۔ انہوں نے شہید بھٹو نے گلگت بلتستان کیلئے اندرونی خودمختاری کا خواب دیکھا تھا جس پر شہید بی بی نے پیشرفت کی اور آج تیسری مرتبہ پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان کو اندرونی خود مختاری دینے اور علاقے کے عوام کو اپنی شناخت دینے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپنے وزیراعلیٰ، وزراء، اسمبلی ،سپیکر، اپنی عدلیہ اور اپنے ادارے ہوںگے۔ انہوں نے کہاکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس علاقے سے جاگیرداری نظام ختم کرکے عدلیہ کی بنیادی رکھی۔ علاقے میں سیاحت کے فروغ کیلئے منصوبے شروع کئے جائیںگے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیںلڑائیوں میں وقت صرف نہیں کرنا چاہئے بلکہ گڈ گورننس کے قیام کیلئے کام کرنا چاہئے اور اپنی حکومت کو مضبوط بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ الیکشن صاف شفاف ہونے چاہئیں اور ہر پارٹی کو برابر مواقع ملنے چائیں۔ یہ الیکشن عدلیہ کی نگرانی میں ہوںگے تاکہ کسی کو بھی ان کے شفاف ہونے پر شک نہ ہو اور جو بھی پارٹی کامیاب ہو اسے اقتدار منتقل کر دینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ اس علاقے کے عوام امن پسند ،محب وطن اورمحنت کرنے والے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ الیکشن کو صاف شفاف بنا کر مفاہمت کی سیاست کے ذریعے جمہوریت کو مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ ۔پاکستان ایک خود مختار اور ذمہ دار ملک ہے۔ ہم بھارت کے ساتھ بھی جامع مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی رضامندی سے حل کیا جائے گا کیونکہ یہ مسئلہ جب تک حل نہیں ہوسکتا خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے عوام کو آپس میں لڑا کر ان کی طاقت کو ضائع کیا جا رہا ہے۔ ہمیں فرقوں اور لسانیت میں پڑھنے کے بجائے ایک ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہاکہ دیامیر بھاشا کے متاثرین کی بحالی کیلئے جو کمیٹی قائم کی گئی ہے وہ ان کے ساتھ پورا انصاف کرے گی اوران کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اس وقت گگلت بلتسان کو 6 ارب پچاس کروڑ روپے جبکہ 5ارب 50 کروڑ روپے استعداد کار میں اضافے کیلئے رکھے گئے ہیں جب نئی حکومت کا قیام عمل میں آ جائے گا تو پی ایس ڈی پی میں اتنا اضافہ کیا جائے گا کہ جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری ترقیاتی منصوبے بنا کر ہمیں بھجوائیں جو بھی علاقے کے حق میں بہتر ہوگا وہ ہم منصوبے شروع کریںگے۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ وزارت خزانہ کو بھی کہیں گے کہ وہ ہاس بلڈنگ کارپوریشن زرعی ترقیاتی بینک اور نیشنل بینک کے ریجنل دفاتر قائم کرنے کا جائزہ لیں۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومتوں سے بھی کہا جائے گا کہ وہ گلگت بلتستان کے طلباءوطالبات کے تعلیمی اداروں میں کوٹہ بڑھائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ طلباءوطالبات تعلیم حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم اور صحت کے شعبوں پر توجہ دیئے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ہم نے صحت کے شعبے کیلئے 87 کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم نے گلگت بلتستان میں ہوٹل انڈسٹری کوٹورازم انڈسٹری کا درجہ دینے ، علاقے میں نوجوانوں کی تربیت کیلئے نیوٹک کا ادارہ قائم کرنے، بے نظیر ٹریکٹر سکیم کے تحت علاقے کیلئے ٹریکٹرز کی تعداد بڑھانے ،پھلوں کو محفوظ رکھنے کیلئے کولڈ سٹوریج تعمیر کرنے ،زراعت کی ترقی کیلئے تحقیقی مراکز قائم کرنے، ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن گندم پر سبسڈی فراہم کرنے، بسوں کی تعداد میں اضافہ کرنے، پی ایس ڈی پی میں ترقیاتی فنڈز میں اضافہ کرنے، کم ازکم تنخواہ 6 ہزار روپے کرنے، تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کیلئے سو ست ڈرائی پورٹ کو بہتر بنانے، میڈیکل کالج قائم کرنے،بلوچستان کی طرح گلگت بلتستان کو بھی ونٹر الانس فراہم کرنے، وفاقی افسروں کے پیکج میں اضافہ کرنے، گلگت بلتستان کے افسروں کو ملکی اور غیر ملکی تربیتی پروگراموں میں مکمل حصہ دینے، ہر ضلعی ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کیلئے ایک ایک ایمبولینس فراہم کرنے، سکردو اور گلگت ایئرپورٹس کو بین الاقوامی ہوائی اڈوں کا درجہ د ینے، گلگت بلتستان کے نوجوانوں کیلئے وفاقی ملازمتوں میں کوٹہ بڑھانے، پولیس ملازمین کی تنخواہیںملک کے دوسرے حصوں کے برابر، وزیراعظم سکیم کے تحت کم آمدنی والے افراد کیلئے گھر تعمیر کرنے ،ہنز نگر ضلع کیلئے ایک ہفتے میں دفتر بنانے اور ڈی سی تعینات کرنے ، کمپنسیٹری النس کی بحالی اور صحافیوں کیلئے کالونی تعمیر کرنے کا اعلان کیا

وزیراعظم کی مجوزہ جلسہ گاہ میںفائرنگ ، چیئرمین بلدیہ بال بال بچ گئے

گلگت(کے ٹو)چیئرمین بلدیہ گلگت سٹی پارک گلگت میںقاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے چیئرمین بلدیہ گلگت پرقاتلانہ حملے کے بعد وزیراعظم کامجوزہ جلسہ گاہ کوسٹی پارک گلگت سے لالک جان سٹیڈیم منتقل کردیاگیا پیرکے روزدن ایک بجے کے قریب سٹی پارک گلگت میں چیئرمین بلدیہ گلگت محمدالیاس صدیقی پرسٹی پارک سے ملحقہ کشروٹ کی جانب سے مکئی کے کھیتوں سے اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ سٹی پارک میں وزیراعظم کے مجوزہ جلسہ گاہ کے انتظامات کاجائزہ لے رہے تھے چیئرمین بلدیہ گلگت پرقاتلانہ حملے کی اطلاع ملتے ہی آناً فاناً پورا شہرخالی ہوگیا مگرچیئرمین بلدیہ گلگت نے شہرمیں کسی ممکنہ تصادم کوروکنے کیلئے مسلسل قاتلانہ حملے کئی تدوید کرتے رہے جس کی وجہ سے کچھ دیربعدگلگت شہرکے حالات دوبارہ معمول پرآگئے مگروزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی کی مجوزہ جلسہ گاہ سٹی پارک میںچیئرمین بلدیہ گلگت پرفائرنگ کے واقعے کے بعد مجوزہ جلسہ گاہ کوسٹی پارک سے تبدیل کرکے لالک جان سٹیڈیم جوٹیال گلگت منتقل کردیاگیا جبکہ سٹی پارک میں جلسہ گاہ کے انتظامات کیلئے اتارا گیا سامان بھی دوبارہ ٹرک میں لوڈ کرکے لالک جان سٹیڈیم منتقل کردیاگیا اس حوالے سے کے پی این کوتفصیلات بیان کرتے ہوئے چیئرمین بلدیہ گلگت محمدالیاس صدیقی نے بتایا کہ پیرکے روزمیں دن ایک بجے کے قریب سٹی پارک گلگت میں وزیراعظم کے مجوزہ جلسہ گاہ میں بنائے جانے والے سٹیج اورپنڈال کیلئے جگہ کاانتخاب کرنے اورانتظامات کا جائزہ لے رہا تھا اسی اثنا میں فائرنگ کی آوازسنی انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کی آوازسنتے ہی جب میں نے مغرب کی سمت احسان علی روڈ کی طرف دیکھا توکافی فاصلے پرموجود مکئی کی کھیتوں سے ایک شخص میری طرف فائرنگ کررہاتھا جب ایک شخص مکئی کے کھیتوں میں دوڑتے ہوئے میرے قریب آنے کی کوشش کررہاتھا اس اثنا میں میرے سرکاری گن مین نے جوابی فائرنگ کردی جس کی وجہ سے دونوں دہشت گردوہاں سے مکئی کی کھیتوں کی آڑ لیتے ہوئے کشروٹ کی جانب فرارہوگئے انہوں نے بتایا کہ فائرنگ پستول سے کی گئی مگرچونکہ دہشت گردوں اورمیرے درمیان خوش قسمتی سے فاصلہ زیادہ تھا اس لئے گولیاں میرے قریب نہ پہنچ سکیں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اورگن مین کی بروقت کارروائی سے میری جان بچ گئی انہوں نے بتایا کہ دودہشت گردوں کومیں خود دیکھا ہے مگردہشت گرددوتھے یادوسے زیادہ تھے اس حوالے سے کچھ نہیں کہ سکتا انہوں نے کہا کہ گلگت شہرمیں زبردست خوف وہراس تھا اس لئے میں نے ہرایک کویہی بتایا کہ میرے اوپرکوئی حملہ نہیں ہوا ہے اگرمیں اسی وقت حملے کی تصدیق کرتا توشاید شہرکے حالات مزید خراب ہوجاتے انہوں نے کہا کہ گلگت شہرکی ایک مسلک یاایک فرقے کانہیں ہے اگریہاں حالات خراب ہوتے ہیں توہم سب متاثرہوتے ہیں اس لئے میں عوام سے اپیل کرتے ہوں کہ وہ گلگت میں قیام امن کیلئے کردارادا کریں

گلگت میںبم دھماکہ ،ہنگامے ، 3افراد جاںبحق

گلگت(کے ٹو) گلگت شہر کے مرکز میںکتابوں کی دکان میںبم دھماکے کے خلاف احتجاج پرتشدد ہنگاموںمیں تبدیل ہوگیا فائرنگ کے واقعات میں ایک پولیس اہلکار سمیت 3افراد جاںبحق اور 2پولیس اہلکار سمیت 5افراد زخمی ہوگئے زخمی پولیس اہلکار کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے ہفتہ کے روز گلگت شہر کے مرکز میں ائیر پورٹ روڈ پرنسیم سینما چوک کے قریب واقع کتابوں کی دکان ماسٹر بک سنٹر پرعینی شاہدین اورپولیس ذرائع کے مطابق ایک نامعلوم شخص نے بم پھینکا جس کے نتیجے میں دکان کامالک، ملازم اورایک گاہک سمیت 5افراد زخمی ہوگئے زخمیوں کو فوراً ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال پہنچا دیاگیاجہاں پردکان کے ایک ملازم اکبرحسین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا جبکہ ایک زخمی کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے دھماکے کے فورٍاً بعد انسپکٹر جنرل پولیس خورشید عالم خان نے حساس اداروںکے اعلیٰ حکام کے ہمراہ جائے وقوعہ کادورہ کیا اوردھماکے سے متاثر ہونے والی کتابوں کی دکان کاجائزہ لیا اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ دکان میں دھماکہ شہرمیں خوف وہراس پیداکرنے کی کوشش ہے انہوںنے کہاکہ ہم نے تحقیقات کاآغاز کردیاہے اوربہت جلد ملزموں کو بے نقاب کردیںگے دریں اثناءدھماکے میںایک شخص جاں بحق ہونے کی اطلاع ملتے ہی گلگت شہر کی مختلف سڑکوں پر نوجوان احتجاجاً سڑکوں پرنکل آئے اورجگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹائر جلاکر شہر کی سڑکوں کو ہرقسم کی ٹریفک کےلئے بندکردیا جبکہ درجنوں نوجوان احتجاج کرتے ہوئے این ایل آئی چوک پہنچ گئے پولیس نے مظاہرین کوآگے بڑھنے سے روکنے کیلئے آنسوگیس کے گولے پھینکے اورہوائی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں درجنوںنوجوان وہاںسے واپس ہوئے اورمشتعل مظاہرین نے سینمابازار میںموجودٹیلی نار موبائل کمپنی کی فرنچائز کی توڑپھوڑ کی اورفرنچائز کے شیشے توڑے اورمبینہ طورپر دکان میں موجود کمپیوٹر کونقصان پہنچایا اورلوٹ مار کی جبکہ اسی روڈ پر مشتعل مظاہرین نے مزید دکانوں کی توڑ پھوڑ کی مظاہرین احتجاج کرتے ہوئے گھڑی باغ پہنچے توپولیس نے گھڑی باغ میںپہلے سے موجود مخالف گروپ کے مابین تصادم کے خطرے کے پیش نظر پولیس نے آنسوگیس کے استعمال کے ساتھ ساتھ فائرنگ شروع کردی اس دوران نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دوپولیس اہلکار زخمی ہوگئے جن میں سے ایک پولیس اہلکار شیر باز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیاشہر میں فائرنگ کی آوازیں سنتے ہی آناً فاناً شہرکی تمام مارکیٹیں اورکاوباری مراکز مکمل طورپر بند ہوگئے اورچند لمحوں کے اندراندر پوراشہر ویران ہوگیاجبکہ بسین کے مقام پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ریزرو پولیس کاایک اہلکار شاہد شدید زخمی ہوگیا جبکہ بسین ہی کے مقام پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک 13سالہ لڑکے کامران کو قتل کردیاہے پولیس ذرائع کے مطابق بسین پولیس اہلکار اورکامران پرفائرنگ کرنے والوں کی نشاندہی ہوگئی ہے اورپولیس ملزموں کوگرفتار کرنے کی کوشش کررہی ہے شہر کی بگڑتی اس صورتحال کوکنٹرول کرنے کیلئے شام کے وقت رینجرز اورپولیس کاگشت بڑھادیاگیاہے اورچیکنگ کے نظام کومزید سخت کردیاگیاہے ایس ایس پی گلگت نے اس حوالے سے کے پی این کو بتایاکہ دھماکہ امپروائزڈ ڈیوائس کاتھاجس کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیںہوا انہوںنے کہاکہ شہر میں جلاﺅگھیراﺅ، فائرنگ اورتوڑپھوڑ کے الزام میں پولیس نے 10مشتبہ افراد کوگرفتار کیاہے جبکہ مزید گرفتاریوں کےلئے چھاپے مارے جارہے ہیں انہوںنے کہاکہ شہرکے پرامن ماحول کوخراب کرنے والوں کوجلد بے نقاب کیاجائے گ

گلگت بم دھماکہ انتخابات ملتوی کرانے کی سازش ہے ، کائرہ

اسلام آباد(کے ٹو) قائم مقام گورنر گلگت بلتستان قمرزمان کائرہ نے گلگت شہر میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اس واقعے میں غیر ملکی عناصر ملوث ہوسکتے ہیں انہوںنے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام کی خواہش پر انہیں داخلی خودمختاری دیدی ہے جس پر گلگت بلتستان کے عوام بہت خوش ہیں گلگت شہر میں بم دھماکہ عوام کو اس خوشی سے محروم کرنے اور 12نومبر کے انتخابات ملتوی کرانے کی سازش ہوسکتی ہے انہوںنے کہاکہ سیکورٹی کے ادارے شہر میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات کررہے ہیں اور بہت جلد ملزمان کو گرفتار کرکے سزادی جائے گی انہوںنے کہا کہ ہم دونوں مکاتب فکر کے علما سے رابطہ کرکے بہت جلد ان واقعات کو کنٹرول کرلیں گے انہوں نے کہا کہ ہم تحقیقات کررہے ہیں کہ اس واقعے میں ملاکنڈ ڈویژن اور سوات کے عناصر ملو ث ہیںیاغیر ملکی عناصر اس سلسلے میں حقائق بہت جلد سامنے لائے جائیں گے