|Gilgit Urdu News|myGilgit.com|

فروری 8, 2009

کراچی میں مقیم گلگت بلتستان کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم

Filed under: Gilgit News,Gilgit Urdu News — mygilgit @ 10:59 صبح

کراچی(کے ٹوے)کراچی کے علاقے کورنگی ، پہاڑ گنج ، چشتی نگر اے بی سینیا لائن سمیت دیگر کئی گلگت بلتستان کے محلہ جات زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور ان علاقوں میں بسنے والے گلگت بلتستان کے لوگ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں علاقے کے عوام پانی ، صحت ، تعلیم ، ٹرانسپورٹ سمیت دیگر اہم سہولتوں سے محروم ہیں تا ہم حکومت دعوﺅں کے سوا کچھ نہیں کر رہی ہے بلتی محلہ اے بی سینیا لائن کو لیز کرنے کے حوالے سے کی جانیوالی یقین دہانیاں بھی سرد خانے کی نذر ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے اے بی سینیا لائن کا وجود خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے اور حکومتی دعوﺅں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث لوگوں کا مستقبل ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے جس کی وجہ سے محلے کے عوام سخت ذہنی کوفت کا شکار ہیں محلے میں صحت کے مسائل دگر گوں ہیں تا ہم اس مسئلے کے حل کی جانب توجہ دینے والا کوئی نہیں حکومت الیکشن کے وقت بلند بانگ دعوے کرتی ہے مگر الیکشن کے بعد حکومت کے نمائندے محلے کا چکر لگانے سے گریزاں نظر آتے ہیں محلے میں صحت کا کوئی مرکز نہ ہونے کے باعث مریضوں کو پرائیویٹ کلینک کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں چیک آپ کی مد میں بھاری رقوم بٹوری جاتی ہیں جس کے باعث ہزاروں گلگت بلتستان کے عوام سخت پریشان ہیں جہاں علاقے کے عوام صحت کے حوالے سے بے شمار مسائل درپیش ہیں وہیں انہیں پینے کے صاف پانی کے حوالے سے مشکلات درپیش ہیں خطے میں کوئی بڑا تعلیمی ادارہ موجود نہیں ہے جس کے نتیجے میں علاقے کے بچے کراچی جیسے اہم اور بڑے شہر میں موجود ہونے کے باوجود تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں ٹرانسپورٹ کی صورتحال بھی دگرگوں ہے پہاڑ گنج، کورنگی اور چشتی نگر میں مقیم گلگت بلتستان کے عوام بھی انتہائی ناگفتہ بہہ حالت میں زندگی گزار رہے ہیں علاقے کے سینکڑوں مکینوں نے کہا ہے کہ علاقے میں حکومت کے بلندوبانگ دعوﺅں کے باوجود لوگوں کی مشکلات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے شہری اور صوبائی حکومت ہر سال الیکشن کے ایام میں مسائل اور مشکلات حل کرنے کی یقین دہانیاں کراتی ہیں مگر الیکشن کے بعد حکومتی نمائندوں کے دعوے دم توڑ جاتے ہیں عوام نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں بھی کراچی کے متعدد علاقوں میں مقیم گلگت بلتستان کے ہزاروں عوام حکومت کی عدم توجہ کے باعث انتہائی مشکل حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں کراچی کے متعدد علاقوں میں مقیم گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے افراد کی کل تعداد پانچ سے چھ لاکھ بتائی جاتی ہے اور ان افراد کی ہمدردیاں ہمیشہ پیپلزپارٹی کے ساتھ رہی ہیں اور اپنی ہمدردیوں کا ثبوت یہ ہر سال الیکشن کے دوران دیتے رہے ہیں تا ہم حکومت کی جانب سے ان علاقوں کی تعمیروترقی کیلئے کوئی جامع منصوبہ تیار نہ کرنا سمجھ سے بالا تر ہے پہاڑ گنج کورنگی ، اے بی سینیا، چشتی نگر اورمحمود آباد کے علاقوں کو جانے کیلئے پکی سڑک تک موجود نہیں ہے جو کچی سڑکیں موجود ہیں ان پر بھی قبضہ مافیا نے سڑکوں کی جگہ پر غیر قانونی تعمیرات شروع کر دی ہیں

Leave a Comment »

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

WordPress.com پر بلاگ.

%d bloggers like this: