|Gilgit Urdu News|myGilgit.com|

اپریل 12, 2009

جامعہ قراقرم سے ہرقسم کے تعصبات کاخاتمہ ہوگیا، ڈاکٹرسلیم خان

Filed under: Gilgit News — mygilgit @ 7:19 شام

پروفیسر ڈاکٹرسلیم خان نے کہاہے کہ ا گرانہیں وائس چانسلر کی مستقل ذمہ داری سونپی گئی تووہ جامعہ قراقرم کی تعمیروترقی کیلئے بنائے گے پلان15سالہ وژن کومکمل طورپرپایہ تکمیل تک پہنچائیں گے ان کہنا تھا کہ جامعہ قراقرم کے اپنے قواعدوضوابط نہ ہونے کی وجہ سے قائداعظم یونیورسٹی کے قواعدواضوابط کے تحت کام چلایاجارہا ہے قائم مقام وائس چانسلر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد انہوں نے جامعہ کے اپنے قواعد وضوابط بنانے پرکام شروع کردیا ہے اوریونیورسٹی کے تمام شعبہ جات اورایڈمن اورمینجمنٹ یونٹوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے شعبوں کے متعلق قواعد وضوابط تیارکریں اورتجاویز دیں اوریہ کام انشاءاللہ بہت جلدمکمل کرلیاجائے گا اورقواعدوضوابط کوحتمی شکل دیکرمتعلقہ حکام سے منظوری لیکرتجاویزدیں اوریہ کام انشاءاللہ بہت جلدمکمل کرلیا جائے گا اورقواعدوضوابط کوحتمی شکل دیکرمتعلقہ حکام سے منظوری لیکرجامعہ قراقرم میں نافذ کردیا جائے گا جامعہ کی عمارت کی تعمیرکے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دسمبر2009تک بلڈنگ مکمل ہوجائے گی اوریونیورسٹی کے تمام شعبہ جات کونئی عمارت میں منتقل کردیاجائے گا پروفیسرڈاکٹرسلیم خان نے کہا کہ اس وقت یونیورسٹی میں 12ڈیپارٹمنٹ ہیں اور13پی ایچ ڈی اساتذہ ہیں نئی عمارت میں منتقل ہونے کے بعد25نئے ڈیپارٹمنٹس کااجراءکیاجائے گا اورپی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد میں بھی زیادہ سے زیادہ اضافہ کیاجائے گا وفاقی اداروں کی جانب سے تعاون کے حوالے سے قائمقام وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ ہائیرایجوکیشن کمیشن نے جامعہ قراقرم کوبہت سپورٹ کیا ہے اورکمیشن کے حکام نے یونیورسٹی کی ترقی کیلئے خصوصی تعاون کیا ہے اورکہاجارہا ہے یونیورسٹی اساتذہ،فیکلٹی ممبران اورسٹاف کی تنخواہیں پرکشش ہیں اوراس حوالے سے جوپیکج جامعہ قراقرم کے سٹاف ،اساتذہ ا ورفیکلٹی ممبران کودیاجارہا ہے وہ بہت اچھا ہے یونیورسٹی کوجن مالی بحران کا سامنا ہے اوررہا ہے اس حوالے سے انہوں نے کشمیرافیئرزاوروزارت فنانس کاخصوصی شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جامعہ کو114ملین کے فنڈزفوری دینے کاوعدہ کیا ہے اس حوالے سے ان کوایک لیٹربھی موصول ہوچکا ہے اور114ملین کے فنڈزبہت جلدجامعہ کومل جائیںگے جس سے جامعہ کے مالی معاملات درست ہوجائیں گے پروفیسر ڈاکٹرسلیم خان نے اس سوا ل کہ سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹرعزیز انجم سے کچھ فیکلٹی ممبران کے اختلافات تھے اوروہ فیکلٹی ممبران ان کی مخالفت کیاکرتے تھے اورطالب علموں میں سابقہ وائس چانسلر کے خلاف رائے پائی جاتی تھی آپ کے آنے سے کوئی تبدیلی آئی ہے یامعاملات اس طرح ہیں کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اوروہ مقامی باشندے ہیں جامعہ میں فیکلٹی ممبران سمیت دیگرسٹاف بھی زیادہ مقامی ہے اساتذہ میں 50فیصد لوگ ان کے شاگردہیں جبکہ دیگرسٹاف میں90فیصد ایسے لوگ ہیں جوکسی نہ کسی طرح اس سے تعلق رکھتے ہیں جن کی بڑی تعداد ان کے شاگردوں پرمشتمل ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سلیم خان نے کہاکہ ان کی سربراہی میں جامعہ سے علاقائی ،فرقہ وارانہ تعصبات ختم ہوچکے ہیں اوراس وقت جامعہ ایک پرامن درسگاہ ہے طالب علموں میں جوگروپ بندیاں تھیں وہ بھی ماندپڑچکی ہیں اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ سب لوگوں کومیں جانتا ہوں اورسب لوگ مجھے جانتے ہیں اورہمارے آپس میں خاندانی روابط کے ساتھ معاشرتی اورسماجی سیاسی اورمذہبی رشتے بھی موجود ہیں اس لئے میری موجودگی میں کوئی بھی مسئلہ جوتعصب پرمبنی ہوگا وہ نہیں ابھرے گا کیونکہ خطہ میں تمام مکاتب فکرکے طبقات کا مجھ پراعتماد ہے اوردوسرا بڑ ا عتماد یہ ہے کہ میراتعلق خطہ کی سرزمین سے ہے قبل ازیں وائس چانسلر کاتقررباہرسے ہوتاآیا جس پرخطہ کے عوام کوتحفظات تھے اورایک بداعتمادی کی فضاءبرقراررہتی تھی جس کے باعث مسائل پیداہوئے تھے بعض اوقات یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طالب علموں کے خلاف اکثرکوئی سخت اقدامات کئے جاتے تواس کوبھی طالب علموں سمیت خطہ کے عوام کسی دوسرے زاویے سے دیکھتے تھے اورخواہ مخواہ کی غلط فہمیاں اوربدگمانیاں جنم لیتی تھیں۔

Leave a Comment »

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Create a free website or blog at WordPress.com.

%d bloggers like this: