|Gilgit Urdu News|myGilgit.com|

مئی 2, 2009

لاہورکے 4دوست کارسمیت دریائے گلگت میںڈوب گئے

Filed under: Gilgit News — mygilgit @ 12:14 شام

گلگت(کے ٹو) لاہور سے سیر کیلئے آئے ہوئے4افراد کار سمیت دریائے گلگت میں ڈوب گئے۔ دو ہلاک شدگان کو نکال لیا گیا، ایک کو بچالیا گیا، ایک کی تلاش جاری ہے۔ یہ افسوس ناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب لاہور سے سیر کی غرض سے آنے والے چار دوست اپنی آلٹو کار میں ہنزہ جاتے ہوئے جمعہ کی رات کو تقریباً9بجے پولیس اور انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ ہونے کے باعث دنیور کے اس پرانے چائنہ پل سے گزرتے ہوئے سیدھے دریائے گلگت میں جا گرے، جس کے تین ستون ٹوٹنے سے پل کا درمیانی حصہ ایک سال قبل دریا برد ہو چکا ہے۔ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کمانڈوز(ایلیٹ فورس) اور پی آر ٹی سی کے جوان موقع پر پہنچے ریسکیو آپریشن کے ذریعے سب سے پہلے کار میں سوار ایک شخص سید عمر شاہ کو زخمی حالت میں دریا سے نکال کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچایا گیا۔ جس کے بعد کار سمیت مزید 2افراد سکندر سلمان اور فیصل محمود کو بھی دریا سے نکال لیا گیا مگر یہ دونوں دم توڑ چکے تھے، جبکہ ڈوب جانے والے چوتھے شخص عاطف کی لاش تلاش کے باوجود جمع کو رات گئے تک نہ مل سکی۔ ریسکیو آپریشن کے دوران دریا کے اندر پولیس کا ایک جوان تہذیب بھی زخمی ہو گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق حادثے میں بچ جانے والے واحد زخمی سید عمر شاہ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔زخمی سید عمر شاہ نے ہسپتال میں ڈاکٹروں کو بتایا کہ ہم چاروں دوست اپنی آلٹو کار میں سیر کی غرض سے لاہور سے روانہ ہوئے اور پہلی بار گلگت سے ہوتے ہوئے ہنزہ جانا چاہتے تھے کہ جمعہ کی رات کو تقریبا9بجے گلگت شہر سے پہلے سابقہ سکوار چونگی کے پاس ہنزہ کے سائین بورڈ اور اس پر موجود تیر کے نشان کے مطابق ہم نے شاہراہ قراقرم پر اپنا سفر جاری رکھا اور چونکہ ہم پہلی بار آئے تھے اور ہم چاروں میں سے کسی کو معلوم نہ تھا کہ تھوڑے ہی فاصلے پر واقع دنیور چائنہ پل ایک سال قبل ٹوٹ چکا ہے مگر افسوس کہ سکوار چونگی سے تباہ شدہ پل تک کے راستے میں نہ تو کسی قسم کی رکاوٹ تھی اور نہ ہی کوئی محافظ موجود تھا پھر وہی ہوا جو ہونا تھا ہم کار سمیت دریا میں جا گرے ادھر عوامی حلقوں نے اس افسوسناک حادثے کو پولیس اور انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ قرار دیا ہے اور اس بات پر افسوس اور حیرت کا اظہار کیا ہے کہ پل تباہ ہوئے ایک سال کا عرصہ بیت گیا ہے مگر پل تک دونوں اطراف کے راستوں پر اب تک کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کرنا آخر کسی حادثے کا انتظار تھا۔ جو بالآخر ہو ہی گیا۔ ان حلقوںنے ذمہ داروں کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

2 تبصرے »

  1. I am really very very disappointed about our authorities. These guys are my best mates. Now wats the use of Punishment these stupid lazy morans deserve. My friends are gone and their families have to bear this burdon all their life.
    Plz for God Sake Learn something

    تبصرہ از kami — مئی 2, 2009 @ 1:10 شام | جواب دیں

  2. Dear concerned!
    if you want to provide some information about norhtern areas, please give updated news. you see you haven’t updated since 2nd May. in this fast time, i think don’t try to pull towards past practices.

    تبصرہ از sultan — مئی 16, 2009 @ 11:00 صبح | جواب دیں


RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Create a free website or blog at WordPress.com.

%d bloggers like this: