|Gilgit Urdu News|myGilgit.com|

مئی 16, 2009

چائناپل پر کارحادثہ ، رکاوٹیں کیوںہٹائی گئیں ، اہلکارڈیوٹی سے غائب کیوںتھے؟

Filed under: Gilgit News — mygilgit @ 11:03 صبح

گلگت(کے ٹو) دنیور چائنہ پل حادثے کے بارے میں اہم معلومات سامنے آئی ہیں، یہ حادثہ15روز قبل(یکم مئی کی رات9بجے) اس وقت پیش آیا تھا جب لاہور سے پہلی بار سیر کیلئے ہنزہ جانے والے چار افراد اپنی آلٹو کار سمیت دیا میں جا گرے جس کے نتیجے میں تین افراد ڈوب کر جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ یہ چاروں دوست دنیور چائنا پل کے منہدم ہونے کے واقعے سے لا علم تھے اور سابقہ سکوار چونگی سے پل تک سڑک پر کسی بھی قسم کی معمولی رکاوٹ بھی نہ ہونے کے باعث پہلی بار آنے والوں کیلئے یہ تاثر نہیں ملتا تھا کہ پل منہدم ہو چکا ہے اور پل کا درمیانی حصہ موجود ہی نہیں۔ کے پی این کی جانب سے کی گئی تحقیقات اور سروے اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے حقائق کے بعد یہ اندازہ لگانا ہر گز مشکل نہیں کہ حادثے کا ذمہ دار کون ہے اور کس کی مجرمانہ غفلت اور لا پرواہی کے باعث یہ حادثہ ہوا اور تین قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس کار حادثے سے متعلق معلومات اور موقع(جائے وقوع کے قریب) اب تک موجود بعض ثبوتوں کے مطابق9ماہ قبل جب دنیور چائنا پل منہدم ہوا اور تین ستون دریا برد ہونے کے باعث پل کا درمیانی حصہ کٹ کر دریا میں جا گرا تو اس واقعے کو فوراً دنیور، بگروٹ اور ہنزہ نگر سمیت دریا کے دوسری جانب کے علاقوں کیلئے ٹریفک کی آمد و رفت بر قرار رکھنے کی غرض سے چنار باغ گلگت کے دو پلوں کو متبادل کے طور پر استعمال کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے جبکہ این ایچ اے گلگت کے حکام نے اطلاع عام کے نام سے فوری طور پر متعدد ”وارننگ بورڈ“ تیار کروائے جن پر انگریزی اور اردو زبان میں واضح طور پر یہ تحریر موجود ہے کہ ”عوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ دنیور پل کے گرنے کی وجہ سے پل پر ہر طرح کی ٹریفک بند کر دی گئی ہے۔ سابقہ سکوار چونگی اور اس کے آس پاس مختلف مقامات پر چائنا پل کے منہدم ہونے کے چند روز کے اندر اندر نصب کئے جانے والے ہے یہ بڑے بڑے ”وارننگ بورڈ“ تاحال اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ دوسری جانب مقامی انتظامیہ کی طرف سے بھی پل کے منہدم ہوتے ہی بعض اہم اقدامات عمل میں لائے گئے جس کے تحت پل کے قریب آنے پر پابندی عائد کر دی گئی، جبکہ بجانت سکوار مندہم چائنا پل کے دھانے پر پولیس چیک پوسٹ اور پولیس بیریئر کی موجودگی کے باوجود کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر بیریئر کے ساتھ ہی تھورے تھوڑے فاصلے پر مزید دو مختلف قسم کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، اس طرح منہدم شدہ پل کے دھانے پر موجود چیک پوسٹ پر رات دن پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی اور بیریئر سمیت تین رکاوٹوں کی موجودگی کی صورت میں کسی بھی قسم کے حادثے کا ای فیصد امکان بھی نہ تھا، مگر حیرت اور تشویش کی بات یہ ہے کہ جب لاہور سے ہنزہ جانے والے چار بد قسمت دوست منہدم شدہ چائنا پل کا درمیانی حصہ نہ ہونے کے باعث یکم مئی کی رات کو اپنی کار سمیت دریا میں جا گرے تو اس وقت پر اسرار طور پر بیریئر سمیت تینوں رکاوٹوں میں سے نہ تو کوئی رکاوٹ موجود تھی اور نہ ہی پل کے چیک پوسٹ پر کوئی اہلکار ڈیوٹی پر حاضر تھا۔ اس لئے اس حادثے کی تمام تر ذمہ داری پولیس اور انتظامیہ پر عائد کی جائے تو غلط نہ ہو گا۔ کیونکہ اس حقیقت سے کیوں اور کیسے انکار کیا جا سکتاہے کہ اگر تینوں رکاوٹوں مین سے ایک بھی رکاوٹ موجود ہوتی تو کار رک جاتی سوار اتر جاتے، رکاوٹ کی وجہ پوچھتے اور وہیں سے واپس ہو جاتے اور اگر ان تینوں رکاوٹوں کو ہٹانا ضروری تھا تو پھر کم از کم چیک پوسٹ پر کوئی ایک پولیس اہلکار بھی موجود ہوتا اور اگر موجود تھا وہ پل پر چوکس ڈیوٹی دیتا تو وہ لا علمی کے باعث آنے والی کار کو روک لیتا اور یہ حادثہ ہر گز نہ ہو تا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پل کے انہدام کے بعد پل پر دفعہ144کے نفاذ پل دھانے پر پولیس چیک پوسٹ کی موجودگی اور قریب ہی بیریئر کے علاوہ دو مزید رکاوٹوں کے قیام کے باوجود حادثے کے وقت آخر یہ تمام رکاوٹیں اور یہ تمام پابندیاں کہا ںگئیں۔ کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ تمام رکاوٹوں کو غائب کر کے اور تمام پابندیوں کو ہتا کر اس حادثے کیلئے راہ ہموار کی گئی ورنہ ان رکاوٹوں کو ہٹانے اور چیک پوسٹ پر پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی سے غائب ہونے کے اسباب کیا تھے۔ وہ کونسی مجبوری تھی کہ پہلی رکاوٹ پر موجود پتھر،دوسری رکاوٹ کے طور پر نصب لوہے کے سٹینڈ اور تیسری رکاوٹ کے طور پر قائم ،بیریئر کا صفایا کر دیا گیا اور اس خطرے کے باوجود کہ پل کے انہدام اور درمیانی حصے کے سرے سے موجود ہی نہ ہونے کے باعث معمولی سی غفلت یا کوتاہی کسی بڑی حادثے کا موجب بن سکتی ہے۔ پولیس اہلکاروں کا ڈیوٹی پر موجود نہ ہونا اور جس کی وجہ سے بالآخر حادثہ رونما ہو جانا ایک المیے سے کم نہیں۔ حادثے میں لاہور سے تعلق رکھنے والے نجی ٹی وی چینل کے ایک اہلکار سمیت تین افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ اس حادثے نے پولیس اور انتظامیہ کی غفلت لا پرواہی اور بے ضابطگی کو عیاں کر دیا ہے اور ان کی کارکردگی سے متعلق مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی پولیس اور انتظامیہ میں سے کوئی بھی اس حادثے مین کوتاہی کا الزام اپنے سر لینے کیلئے تیار نہیں، تاہم انتظامی اور عدالتی سطح پر جاری تحقیقات کے مکمل ہونے کے بعد ہی یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ یہ حادثہ کس ادارے ۔ کس سرکاری آفیسر یا کونسے سرکاری اہلکار کی مجرمانہ غفلت اور لا پرواہی کے باعث پیش آی

Leave a Comment »

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Create a free website or blog at WordPress.com.

%d bloggers like this: