|Gilgit Urdu News|myGilgit.com|

مئی 19, 2009

ہنزہ نگر کے سکول اساتذہ سے خالی ، عوام سڑکوں پرآگئے ، شاہراہ قراقرم بلاک

Filed under: Gilgit News — mygilgit @ 5:26 شام

گلگت (کے ٹو) شمالی علاقہ جات کے دیہی علاقوں میں نظام تعلیم تباہی کے دھانے پرپہنچ چکاہے اورسکولوں میں اساتذہ کی عدم دستیابی اورعدم حاضری کے خلاف عوام نے احتجاجاً سکولوں کو تالے لگانے اورشاہراہ قراقرم پراحتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ چیئرمین ضلع کونسل نے دھمکی دی ہے کہ اگر محکمہ تعلیم کے ذمہ دار حکام نے نگر اورہنزہ کے سکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی اوران کی حاضری کو یقینی نہ بنایا تو پورے ہنزہ نگر کے سکولوں کوتالے لگا کر عوام اورطلباء سٹرکوںپر نکل آئیں گے اورشاہراہ قراقرم کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کردیں گے ، اس سلسلے میں پیر کے روزنگر حلقہ نمبر2 کے عوام نے قائم آباد کے مقام پر شاہراہ قراقرم کو صبح 8 بجے سے3بجے تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند رکھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نگر کے سکولوں میں اساتذہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور جو اساتذہ ان سکولوں میں تعینات ہیں ان میں سے کبھی اکثر اساتذہ محکمہ تعلیم کے ذمہ دار حکام کے تعاون اور ملی بھگت سے سکولوں میںحاضر نہیں ہوتے ہیں اورمہینے کے آخر میں اپنی تنخواہ وصول کرلیتے ہیں ۔ مظاہرین نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن گلگت کے خلاف زبردست نعرہ بازی بھی کی ۔ ادھر ہنزہ علی آباد کے عوام نے ہائی سکول علی آباد میں اساتذہ کی کمی اوربعض اساتذہ کے ڈیوٹی سے غیر حاضر ہونے کے خلاف احتجاجاً سکول کو تالے لگا دئیے ہیں اورکہاہے کہ اساتذہ کی دستیابی تک احتجاجاً سکول بناد رکھا جائیگا ، اس حوال سے کے پی این کو معلوم ہوا ہے کہ پیر کے روز محکمہ تعلیم کے بعض حکام نے سکول کے تالے کھولنے کی کوشش کی مگر عوام اورطلبا کے احتجاج کے باعث محکمہ تعلیم کے حکام سکول کھولنے میں کامیاب نہ ہوسکے ۔ اس صورت حال کے حوالے سے کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ضلع کونسل گلگت محمد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ محکمہ تعلیم شمالی علاقہ جات کے ذمہ دار حکام نے شمالی علاقہ جات کے دیہی علاقوں میں نظام تعلیم کو تباہ کردیا ہے اورعوام کی جانب سے اس حوالے سے کئی بار کے احتجاج اور رابطوں کے باوجود بھی اصلاح احوال کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ محکمہ تعلیم میں جب دیہی علاقوں کے سکولوں میں اساتذہ کی خالی آسامیوں پر بھرتی کامرحلہ آتاہے نو محکمہ تعلیم کے ذمہ دار حکام کی سفارش اوراثر وسوخ کی وجہ سے شہری علاقوں سے اساتذہ کو بھرتی کرکے دیہی علاقوں کے سکولوں میں بھیجا جاتاہے اور یہ اساتذہ ان سکولوں میںایک ماہ ڈیوٹی دینے کے بعد اثروسوخ استعمال کرکے اپنے ہوم اسٹیشن میں ٹرانسفر کرالیتے ہیں جس کی وجہ سے دیہاتی علاقوں کے سکول اساتذہ سے خالی ہوجاتے ہیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں میں ہم نے کوشش کرکے نگر کے سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے اسامیاں منظو رکرائیں مگر جب بھرتی کا مرحلہ پیش آیا تو نگر اورہنزہ کے امیدوار کو نظر انداز کرکے سفارش اوررشوت کی وجہ سے دوسرے علاقے کے لوگوں کوبھرتی کیا گیا اور ان اساتذہ نے صرف ایک ایک ماہ سکول میں حاضری دینے کے بعد اپنے اثر ورسوخ اورسفارش کی بنیاد پر اپنے اپنے علاقوں میں ٹرانسفر کرالی جبکہ نگر اورہنزہ کے سکول ایک باربھر اساتذہ سے خالی ہوچکے ہیں اورعوام ایک بار پھراحتجاج پر مجبور ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ محکمہ تعلیم کے ذمہ دار حکام کافرض بنتا ہے کہ جو سکول ٹیچر جس سکول کی اسامی پربھرتی ہوتی ہے وہاں پرڈیوٹی دینے کو یقینی بنائے یا پھر محکمہ تعلیم متبادل ٹیچر فراہم کرے مگر افسوس کی بات ہے کہ محکمہ تعلیم شمالی علاقوں کے دیہی علاقوں میں نظام تعلیم کوبہتر بنانے کی جانب توجہ دینے کی بجائے نظام تعلیم کو تباہ کرنے پرتلا ہواہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب عوام بیدار ہوچکے ہیں ۔ اوراب ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے اورہنزہ نگر کے سکولوں کی اسامیوں پربھرتی ہونے والے اساتذہ ہنزہ نگر میں ڈیوٹی دیں گے یا پھر محکمہ تعلیم میں ہمیں متبادل اساتذہ فراہم کرے ۔بصورت دیگر ہم پورے ہنزہ نگر کے سکولوں کو احتجاجاً بند کردیں گے اور عوام غیر معینہ مدت کیلئے شاہراہ قراقرم کو بند کرنے پر مجبور ہونگے

Leave a Comment »

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Create a free website or blog at WordPress.com.

%d bloggers like this: