|Gilgit Urdu News|myGilgit.com|

جولائی 14, 2009

بگروٹ ، غیر قانونی الاٹمنٹ کیخلاف سینکڑوں افراد کاچیف سیکرٹری آفس کے باہر دھرن

Filed under: Gilgit News — mygilgit @ 5:58 شام

گلگت- بگروٹ میں11سو کنال سے زائد اراضی غیر قانونی طور پر بعض افراد کو الاٹ کرنے کے خلاف سینکروں افراد پر مشتمل اہلیان بگروٹ نے چیف سیکرٹری آفس کے باہر احتجاجی دھرنا دیا۔ مطاہرین نے غیر قانونی الاٹمنٹ کو فوری طور پر منسوخ کر کے چراہ گاہ اور جنگل کو مقامی افراد کے نام منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے محکمہ مال کے عملے کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔ پیر کے روز غیر قانونی الاٹمنٹ کے خلاف اہلیان بگروٹ جو کہ سینکڑوں کی تعداد مین تھے کیپٹن(ر) محمد شفیع و دیگر عمائدین علاقہ کی قیادت میں چیف سیکرٹری آفس کے باہر احتجاجی دھرنا دیا اس موقع پر کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے غلام عباس ،مہر علی، شہادت نور، میر فضل شاہ، عبداللہ خان، شیر محمد اور میر محمد شمیت دیگر عمائدین علاقہ نے کہا کہ چراہ بگروٹ کی چراہ گاہ صدیوں سے اہلیان بگروٹ کی پشتنی ملکیت ہے اور اس پر مقامی افراد کا ہی قبضہ ہے۔ محکمہ مال کے راشی افسران نے بعض افراد سے ملی بھگت کر کے11سو کنال سے زائد اراضی اور بڑے پیمانے پر جنگل غیر قانونی طور پر بعض افراد کو الاٹ کر دیا ہے جو کہ خلاف قانون اور علاقے کے امن کو تباہ کرنے کی مذموم سازش ہے، عمائدین بگروٹ کے مطابق بگروٹ کے5سو سے زائد گھرانے غیر قانونی الاٹمنٹ کے خلاف کسی بھی حدسے گزرنے کوتیار ہیں۔ انتظامیہ صورتھال کا فوری نوٹس لے۔ اگر روایتی سستی اور غفلت کا مظاہرہ کیا گیا تو علاقے میں کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی ذمہ داری مقامی انتظامیہ پر عائد ہو گی۔اگر انتظامیہ مذکورہ اراضی کسی کو الاٹ کرنا چاہتی ہے تو بگروٹ کے5سو گھرانوں میں تقسیم کی جائے ، محکمہ مال کے اہلکاروں نے جن افراد کو الاٹ کی ہے وہ کسی بھی طرح سے اس کے مستحق نہیں ہیں۔ محکمہ مال کے ریکارڈ میں چراہ گاہ اور جنگل خالصہ سرکار اور اہلیان بگروٹ کی ملکیت ہے۔ عمائدین علاقہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر انتظامیہ نے سنجیدگی سے اس مسئلے کو فوری حل نہ کیا تو علاقے کے عوام انتظامیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دینگے اور حالات کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہو گی۔ انہوں نے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے غیر قانونی الاٹمنٹ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سکت قانونی کارروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر قائم مقام چیف سیکرٹری گلگت بلتستان سید مطاہر شاہ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ1985ءسے الاٹمنٹ پر پابند ہے اور بگروٹ میںہونے والی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات ڈپٹی کمشنر گلگت کی سر براہی میں اگلے7روز میں مکمل کر لی جائے گی اور ریکارڈ کی روشنی میں اس مسئلے کو حل کیا جائیگا اور غیر قانونی الاٹمنٹ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔ انہوں نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ مذکورہ الاٹمنٹ جعلی ثابت ہوئی تو اسے منسوخ کر دیا جائیگا۔ انہوں نے بگروٹ میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی پر سخت ایکشن لینے اور علاقے میں آتے کے بھران پر قابو پانے اور رابطہ سڑک کی تکمیل کیلئے فنڈز فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس موقع پر قانون ساز اسمبلی کے امیدوار کیپٹن(ر) محمد شفیع نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی طور پر الاٹ کی گئی زمین کے مسئلے کو تفصیل کے ساتھ حکام کو آگاہ کر دیا ہے ۔ حکام نے اس مسئلے کو فوری طور پر حل کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ پر امن طور پر منتشر ہو جائیں تاکہ حکام اس مسئلے کے فوری حل کیلئے کارروائی کا آغاز کر سکیں جس پر مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے

Leave a Comment »

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

WordPress.com پر بلاگ.

%d bloggers like this: