|Gilgit Urdu News|myGilgit.com|

اگست 22, 2009

قراقرم یونیورسٹی کے منصوبے چھ سال میں مکمل نہ ہوسکے

Filed under: Gilgit News,Gilgit Urdu News — mygilgit @ 9:59 صبح

گلگت(کے ٹو)گلگت بلتستان میں واقع واحد تعلیمی درس گاہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی بھی دیگرترقیاتی منصوبوں کی طرح ادھورے منصوبوں کے قبرستان کاحصہ بن کررہ گئی مشرف دورمیں جب گلگت بلتستان میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی قائم کی گئی تواس کے لئے درکارکئی نئی عمارتوں کی تعمیرکی منظوری دی گئی اوراس سلسلے میں 2003ءمیں حکومت نے نئی عمارتوں کی تعمیرکے لئے 40کروڑ روپے کی خطیررقم بھی فراہم کی اوراسی سال مذکورہ عمارتوں کی تعمیرکے لئے ٹینڈرزکرائے گئے یوں جن منصوبوں پرکام آغازہوا ان میں کیفے ٹیریا،گرلزہاسٹل ،گیسٹ ہاﺅس اوریونیورسٹی کامین گیٹ شامل ہیں مذکورہ منصوبوں کی تعمیرکا ٹھیکہ چارٹھیکیداروں کودیاگیا جن میں سے ایک ٹھیکیدارنے گزشتہ 6سالوں کے دوران اپنے حصے کے کام کاصرف70فیصدتاحال مکمل کیا ہے جوکہ کسی ریکارڈ سے کم نہیں جبکہ باقی ماندہ تینوں ٹھیکیداروں نے اب تک اپنے حصے کا صرف40فیصدکام گزشتہ 6سالوں کے دوران پائیہ تکمیل کوپہنچایا ہے مذکورہ منصوبوں پرکام شروع ہونے کے کچھ ہی عرصے کے بعد کام کی سست رفتاری کی وجہ سے ان ٹھیکیداروں کے کچھ منصوبے منسوخ کرکے یونیورسٹی انتظامیہ کوازسرنودوبارہ ٹینڈرکرانے پڑے اوریوں حکومتی خزانے کوایک اوردھچکالگانا پڑا 2003ءمیں جب یہ منصوبے شروع کئے گئے ان کی تکمیل کی مدت دوسال طے پائی تھی اکتوبر2005ءمیں مذکورہ منصوبے مکمل کرکے ٹھیکیداروں کویونیورسٹی کے حوالے کرنا تھا مگرنامعلوم وجوہات کی بناپرمذکورہ عمارتیں اپنی تکمیل کے مقررہ وقت پرمکمل نہ ہوسکیں اس دوران ان تعمیرات میں تاخیرکے سبب ان منصوبوں کوبروقت مکمل کرنے کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ نے مذکورہ منصوبوں کیلئے مزید28کروڑ روپے مختص کئے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ کی یہ کوشش بھی ناکام ہوکررہ گئی گزشتہ چھ سالوں میںمذکورہ چارمنصوبوں میں سے صرف گرلزہاسٹل کاایک حصہ اپنی تکمیل کے انجام کوپہنچ سکا جبکہ باقی ماندہ منصوبے جو2003ءمیں شروع ہوئے تھے آج 2009ءمیں قومی خزانے کے 68کروڑ روپے خرچ کئے جانے کے باوجود کچھوے کی چال چل رہے ہیں اوریوں اس خطے کی واحد اورسب سے بڑی درس گاہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی بھی ادھورے منصوبوں کے قبرستان کاباقاعدہ حصہ بن کروفاقی حکومت ،ہائیرایجوکیشن کمیشن اوریونیورسٹی انتظامیہ کامنہ تکتی دکھائی دیتی ہے یہ ساری صورتحال اس بات کاواضح ثبوت ہے کہ یونیورسٹی کاشعبہ تعمیرات کاعملہ بھی محکمہ تعمیرات عامہ گلگت بلتستان کی طرح کمیشن خوراورٹھیکیداروں سے ملی بھگت میںاپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا ان منصوبوں کی عدم تکمیل کی وجہ سے جہاں طلباءوطالبات کومسائل سے دوچارہوناپڑرہاہے وہاں یونیورسٹی کے ذمہ دارحکام کوبھی مشکلات میں مبتلا کررکھا ہے۔

Leave a Comment »

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

WordPress.com پر بلاگ.

%d bloggers like this: