|Gilgit Urdu News|myGilgit.com|

اگست 26, 2009

نجی اداروں میں کام کرنے والے سرکاری ڈاکٹروں کیخلاف کارروائی کاحکم

Filed under: Gilgit News,Gilgit Urdu News — mygilgit @ 5:23 صبح

گلگت(کے ٹو)سپریم اپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس ،جسٹس محمدنوازعباسی کی سربراہی میں فل بنچ نے سکردوہسپتال میں گائنا کالوجسٹ کی عدم موجودگی سے متعلق کئے گئے اپنے سوموٹوایکشن کافیصلہ سنادیافل بنچ جس میں جسٹس محمدنوازعباسی،جسٹس سیدجعفرشاہ اورجسٹس محمدیعقوب شامل تھے نے اپنے فیصلے میں سیکرٹری ہیلتھ گلگت بلتستان کوحکم دیا ہے کہ وہ پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے سرکاری ڈاکٹروں کے خلاف فوری طورپرقانونی کارروائی عمل میں لائیں فل بنچ نے آغاخان ہیلتھ سمیت تمام نجی اداروں کوبھی ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے سرکاری ڈاکٹروں کوملازمت دینے سے گریزکریں جن کے پاس چیف سیکرٹری شمالی علاقہ جات کااین اوسی موجود نہیں سپریم اپلیٹ کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں قراردیا ہے کہ گلگت بلتستان کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں نرم پالیسیوں کے بدولت ایم بی بی ایس اوردیگرسپیشلسٹ ڈاکٹرز ملک کے دیگرعلاقوں کے تعلیمی اداروں میں شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان کے کوٹے پراس شرط داخلہ دیے جاتے ہیں کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اورتربیتی مراحل مکمل کرنے کے بعد گلگت بلتستان کے ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دیں گے مگرگلگت بلتستان میں صورتحال یکسرمختلف ہے ڈاکٹرز تعلیم مکمل کرنے کے بعد اورتربیت مکمل کرنے کے بعد وہ ڈکٹرزمعاہدے پرقائم نہیں رہتے ہیں جس کے باعث ہیلتھ جیسے اہم محکمہ سمیت گلگت بلتستان کے عوام کونقصان اٹھاناپڑرہاہے بلکہ گلگت بلتستان کے ہسپتالوں میں ماہرڈاکٹروں اوراسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے سپریم اپلیٹ کورٹ نے اپنے فیصلے میںحکم دیا ہے کہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ایسے ڈاکٹروں اوراسپیشلسٹ ڈاکٹروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل لائے اوران ڈاکٹروں اوراسپیشلسٹ ڈاکٹروں سے ان کئے گئے تنخواہوں اوراخراجات کی ریکوری کرے محکمہ ہیلتھ ان ڈاکٹروں اوراسپیشلسٹ کوجنہوں نے سرکاری خرچ پرتعلیم حاصل کی ہے ان کوواپس گلگت بلتستان لانے کیلئے کارروائی کرے عدالت عظمیٰ سپریم اپلیٹ کورٹ نے اپنے فیصلے میں سیکرٹری ہیلتھ گلگت بلتستaان کوحکم دیا ہے کہ وہ فیڈرل وصوبائی حکومتوں کے علاوہ آغا خان ہیلتھ سروسز اورنجی اداروں کے تعاون سے ان ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرے جہاں جہاں وہ ملازمت کرتے ہیں ۔فیصلے میں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ سیکرٹری ہیلتھ اس بات کو یقینی بنائیںکہ آغا خان ہیلتھ سروسز اور دیگر نجی ادارے سرکاری ڈاکٹروں کو ملازمت فراہم نہ کریں جن کے پاس چیف سیکرٹری کا این او سی موجود نہیں ، فاضل عدالت نے آغا خان ہیلتھ سروسز سے بھی کہاہے کہ وہ بھی گلگت بلتستان کے پسماندہ علاقوں میں بسنے والے عوام کوطبی سہولیات کی فراہمی اوراس مقصد کیلئے میڈیکل کالج کے قیام کیلئے اپنا کردارادا کرتے ہوئے فوری طورپر کالج کے قیام کے سلسلے میں اپنی سفارشات کو عملی جامہ پہنائیں۔

1 تبصرہ »

  1. we are praised to Chief Justice muhammad nawaz abbasi that he is going to take action against the govt.doctors who are not giving duties in their stations,i want to mentioned a case of my village haramosh,there is a hospital in Sassi haramosh which is waiting for the Doctors for a long time,the doc.Rawish khan which was posted there because he is from haramosh to serve the people of haramosh but he is involve in the local NGO(HDO) and doing part time job in aga khan family health chinar bagh,
    and absent from his duties from a long time ,no body is there to complain because of some family clshes.It is my humbel request to Chief justice muhammad abbasi to take action against doc.rawish khan and send him to haramosh sassi hospital.

    تبصرہ از From Haramosh — اکتوبر 11, 2009 @ 10:05 شام | جواب دیں


RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Create a free website or blog at WordPress.com.

%d bloggers like this: