|Gilgit Urdu News|myGilgit.com|

ستمبر 30, 2009

گندم پرسبسڈی بحال ،پولیس کی تنخواہیں دوگنی، گلگت، سکردو ائیر پورٹس کوبین الاقوامی ہوائی اڈے کادرجہ دے دیاگیا

Filed under: Gilgit News — mygilgit @ 7:28 شام

اسلام آباد (کے ٹو)اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کو اندرونی خود مختاری کے ذریعے شناخت دے کر شہید ذوالفقار علی بھٹو کا وعدہ پورا کر دیا ہے، قانون ساز اسمبلی کے انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں صاف اور شفاف ہوںگے اور جو پارٹی بھی کامیاب ہوگی اسے اقتدار منتقل کر دیا جائے گا،مفاہمت کی سیاست کو فروغ دے کر جمہوریت کو مضبوط بنانا ہوگا، فرقہ وارایت اور لسانیت میں پڑ کر طاقت ضائع کرنے کی بجائے ہمیں مل کر آگے بڑھنا چاہئے،پاکستان ایک خود مختار اور ذمہ دار ایٹمی قوت ہے،ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر اور برابری کی سطح پر تعلقات کے خواہاں ہیں، مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ وہ منگل کو یہاں لالک جان شہید سٹیڈیم گلگت میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر گورنر گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ ، پیپلز پارٹی گلگت بلتستان سید مہدی شاہ اور سیکرٹری جنرل غلام محمد نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ پیپلز پارٹی ایک نظریے کا نام نہیں ایک تحریک ہے، پیپلز پارٹی کے قائدین نے ملک کیلے بے مثال دیں۔ شہید ذوالفقا علی بھٹو، شہید بی بی اور ان کے بھائیوں کی قربانیوں کی بنیاد پر آج ہماری حکومت قائم ہے۔ انہوں نے شہید بھٹو نے گلگت بلتستان کیلئے اندرونی خودمختاری کا خواب دیکھا تھا جس پر شہید بی بی نے پیشرفت کی اور آج تیسری مرتبہ پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان کو اندرونی خود مختاری دینے اور علاقے کے عوام کو اپنی شناخت دینے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپنے وزیراعلیٰ، وزراء، اسمبلی ،سپیکر، اپنی عدلیہ اور اپنے ادارے ہوںگے۔ انہوں نے کہاکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس علاقے سے جاگیرداری نظام ختم کرکے عدلیہ کی بنیادی رکھی۔ علاقے میں سیاحت کے فروغ کیلئے منصوبے شروع کئے جائیںگے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیںلڑائیوں میں وقت صرف نہیں کرنا چاہئے بلکہ گڈ گورننس کے قیام کیلئے کام کرنا چاہئے اور اپنی حکومت کو مضبوط بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ الیکشن صاف شفاف ہونے چاہئیں اور ہر پارٹی کو برابر مواقع ملنے چائیں۔ یہ الیکشن عدلیہ کی نگرانی میں ہوںگے تاکہ کسی کو بھی ان کے شفاف ہونے پر شک نہ ہو اور جو بھی پارٹی کامیاب ہو اسے اقتدار منتقل کر دینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ اس علاقے کے عوام امن پسند ،محب وطن اورمحنت کرنے والے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ الیکشن کو صاف شفاف بنا کر مفاہمت کی سیاست کے ذریعے جمہوریت کو مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ ۔پاکستان ایک خود مختار اور ذمہ دار ملک ہے۔ ہم بھارت کے ساتھ بھی جامع مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی رضامندی سے حل کیا جائے گا کیونکہ یہ مسئلہ جب تک حل نہیں ہوسکتا خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے عوام کو آپس میں لڑا کر ان کی طاقت کو ضائع کیا جا رہا ہے۔ ہمیں فرقوں اور لسانیت میں پڑھنے کے بجائے ایک ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہاکہ دیامیر بھاشا کے متاثرین کی بحالی کیلئے جو کمیٹی قائم کی گئی ہے وہ ان کے ساتھ پورا انصاف کرے گی اوران کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اس وقت گگلت بلتسان کو 6 ارب پچاس کروڑ روپے جبکہ 5ارب 50 کروڑ روپے استعداد کار میں اضافے کیلئے رکھے گئے ہیں جب نئی حکومت کا قیام عمل میں آ جائے گا تو پی ایس ڈی پی میں اتنا اضافہ کیا جائے گا کہ جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری ترقیاتی منصوبے بنا کر ہمیں بھجوائیں جو بھی علاقے کے حق میں بہتر ہوگا وہ ہم منصوبے شروع کریںگے۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ وزارت خزانہ کو بھی کہیں گے کہ وہ ہاس بلڈنگ کارپوریشن زرعی ترقیاتی بینک اور نیشنل بینک کے ریجنل دفاتر قائم کرنے کا جائزہ لیں۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومتوں سے بھی کہا جائے گا کہ وہ گلگت بلتستان کے طلباءوطالبات کے تعلیمی اداروں میں کوٹہ بڑھائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ طلباءوطالبات تعلیم حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم اور صحت کے شعبوں پر توجہ دیئے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ہم نے صحت کے شعبے کیلئے 87 کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم نے گلگت بلتستان میں ہوٹل انڈسٹری کوٹورازم انڈسٹری کا درجہ دینے ، علاقے میں نوجوانوں کی تربیت کیلئے نیوٹک کا ادارہ قائم کرنے، بے نظیر ٹریکٹر سکیم کے تحت علاقے کیلئے ٹریکٹرز کی تعداد بڑھانے ،پھلوں کو محفوظ رکھنے کیلئے کولڈ سٹوریج تعمیر کرنے ،زراعت کی ترقی کیلئے تحقیقی مراکز قائم کرنے، ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن گندم پر سبسڈی فراہم کرنے، بسوں کی تعداد میں اضافہ کرنے، پی ایس ڈی پی میں ترقیاتی فنڈز میں اضافہ کرنے، کم ازکم تنخواہ 6 ہزار روپے کرنے، تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کیلئے سو ست ڈرائی پورٹ کو بہتر بنانے، میڈیکل کالج قائم کرنے،بلوچستان کی طرح گلگت بلتستان کو بھی ونٹر الانس فراہم کرنے، وفاقی افسروں کے پیکج میں اضافہ کرنے، گلگت بلتستان کے افسروں کو ملکی اور غیر ملکی تربیتی پروگراموں میں مکمل حصہ دینے، ہر ضلعی ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کیلئے ایک ایک ایمبولینس فراہم کرنے، سکردو اور گلگت ایئرپورٹس کو بین الاقوامی ہوائی اڈوں کا درجہ د ینے، گلگت بلتستان کے نوجوانوں کیلئے وفاقی ملازمتوں میں کوٹہ بڑھانے، پولیس ملازمین کی تنخواہیںملک کے دوسرے حصوں کے برابر، وزیراعظم سکیم کے تحت کم آمدنی والے افراد کیلئے گھر تعمیر کرنے ،ہنز نگر ضلع کیلئے ایک ہفتے میں دفتر بنانے اور ڈی سی تعینات کرنے ، کمپنسیٹری النس کی بحالی اور صحافیوں کیلئے کالونی تعمیر کرنے کا اعلان کیا

Leave a Comment »

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

WordPress.com پر بلاگ.

%d bloggers like this: