|Gilgit Urdu News|myGilgit.com|

نومبر 11, 2009

گلگت بلتستان میں کل پولنگ کیلئے انتظامات مکمل کر لئے گئے

Filed under: Gilgit News — mygilgit @ 7:09 شام

گلگت . . . گلگت بلتستان قانون ساز کونسل کو اسمبلی کا درجہ ملنے کے بعدپہلے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔24نشستوں میں سے حلقہ نمبر ایل اے19غذر1میں ایم کیو ایم کے امیدوار کے انتقال کے بعد23 نشستوں پر ووٹنگ کل ہورہی ہے۔6 اضلاع گلگت، اسکردو،دیامر،گھانچھے،غذر اور استور پر مشتمل گلگت بلتستان کی کل آبادی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق11لاکھ4ہزار190نفوس پر مشتمل ہے جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعدادسات لاکھ17ہزار286ہے جس میں میل ووٹرز کی تعداد3لاکھ84ہزار909جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد3لاکھ32ہزار377ہے ۔ کل ہونے والے انتخابات میں دس سیاسی جماعتوں کے99جبکہ165امیدوار آزاد حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں،جن میں پیپلز پارٹی کے23،،متحدہ قومی موومنٹ کے18،،مسلم لیگ ن کے15،،مسلم لیگ ق کے14،اے این پی کے چار، جے یوآئی ف کے3،،تحریک انصاف کے2،جماعت اسلامی کے ایک اور قوم پرستوں کے اتحاد گلگت بلتستان ڈیموکریٹک الائینس کے6امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔ جمعرات کے روز ہونے والے انتخابات میں3خواتین بھی جنرل نشستوں پر حصہ لے رہی ہیں جن میں مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر ایل اے23گھانچھے2میں آمنہ بی بی کے علاوہ دو خواتین آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ووٹنگ کے لیے تمام6 اضلاع میں ایک ہزار22 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ مردوں کے لیے2 سو58 جبکہ خواتین کے لیے2 سو53 پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں۔ان میں سے153 پولنگ اسٹیشنز کو حساس جبکہ119 کو انتہائی حساس قراردیاگیا ہے۔الیکشن کمشنر گلگت بلتستان رحیم نواز خان درانی اور اے آئی جی پولیس حاجت میر کے مطابق الیکشن اور سیکیورٹی کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔ 1994 ،1999 اور سال2004 کے بعد گلگت بلتستان میں یہ چوتھی مرتبہ جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہورہے ہیں جس میں دوسری سیاسی پارٹیوں کے علاوہ قوم پرست امیدوار بھی ڈیموکریٹک الائنس کے تحت ایک ہی انتخابی نشان سے میدان میں موجود ہیں جبکہ اس سے قبل قوم پرستوں نے ہر مرتبہ انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔گلگت بلتستان میں12نومبر کو ہونے والے انتخابات کی ایک اور خاص بات یہ بھی ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے18نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے گئے ہیں جو ایک غیرمعمولی بات ہے۔انتخابی مہم کے دوران پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ نون ،مسلم لیگ ق ،اور متحدہ قومی موومنٹ سمیت انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی پارٹیوں کی جانب سے جہاں اپنے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا گیا وہاں آزاد امیدواروں نے بھی علاقے کی ترقی کے لیے وعدے کیے ہیں، تاہم یہاں کے ووٹر اپنی نمائیدگی کے لیے کسے بہتر خیال کرتے ہیں اس کا اظہار وہ کل ہونے والے انتخابات میں کریں گے

Leave a Comment »

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

WordPress.com پر بلاگ.

%d bloggers like this: