|Gilgit Urdu News|myGilgit.com|

دسمبر 8, 2009

سانحہ کارسازکے شہید کی بہن کیلئے مخصوص نشست پر نامزدگی، گلگت بلتستان اور کراچی کے کارکنوںمیں خوشی کی لہر

Filed under: Gilgit News — mygilgit @ 8:57 شام

کراچی+ گلگت(خصوصی رپورٹ)سانحہ کارساز میں جئے بھٹو کا نعرہ لگا کر شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو بچاتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے پیپلزپارٹی کے جرات مند کارکن ایاز علی کی اعلیٰ تعلیم یافتہ بہن کو قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان میں خواتین کیلئے مخصوص نشستوں میںسے ایک نشست پر نامزد کرنے کے صدر آصف علی زرداری کے فیصلے سے گلگت بلتستان اور کراچی میں پارٹی کے لئے قربانیاں دینے والے کارکنوں اور جیالوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی پارٹی کی ہائی کمان نے جس خاتون کو قانون ساز اسمبلی کی نشست کیلئے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیاہے وہ شیریں فاطمہ ہیں سانحہ کار ساز میں شیریں فاطمہ کا دوسرا بھائی فرہاد علی شدید زخمی ہو گیا تھا اور وہ تا حال ہسپتال میں زیر علاج ہے شیریں فاطمہ کراچی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور ان کے پاس ایم اے اکنامکس کی ڈگری ہے اور بینکنگ کا چھ سالہ تجربہ رکھتی ہیں شیریں فاطمہ کو ان کے خاندان کی طرف سے پارٹی کے لئے دی جانے والی عظیم قربانیوں کے اعتراف کے طور پر خواتین کی نشست پر نامزد کیا گیا ہے پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی طرف سے شہید کارکن کی بہن کی نامزدگی سے یہ حقیقت عیاں ہو گئی ہے کہ پارٹی کی ہائی کمان کی نظر میں پارٹی کارکنوں خصوصاً پارٹی کے لئے قربانیاں دینے والوں کی کیا حیثیت اور قدر ومنزلت ہے دوسری طرف یہاں یہ تلخ حقیقت بھی سامنے آگئی ہے کہ پارٹی کی مقامی قیادت اپنے ذاتی مفادات کے حصول میں کس قدر اندھی ہو گئی ہے اور وہ شہداءکی قربانیوں کا اعتراف کرنے پر بھی آمادہ نہیں توقع یہ کی جارہی ہے کہ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کی قیادت ان لوگوں کو آگے لانے کی کوشش کرے گی جنہوں نے پارٹی کے لئے قربانیاں دی ہیں لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں اور پارٹی ٹکٹ ریوڑیوں کی طرح بانٹنے کی کوشش کی گئی سانحہ کار ساز میں صرف ضلع گانچھے سے چار کارکن شہید ہو گئے تھے پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کی قیادت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنی طرف سے شہداءکے ورثا کو تلاش کرتی اور مستحق افراد کو ٹکٹ آفر کرتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا ہے اور جب پارٹی کی ہائی کمان کی طرف سے ایک مستحق خاتون کو مخصوص نشست پر نامزد کیا گیا تو مقامی قیادت کو ہائی کمان کے اس فیصلے سے دل وجان سے قبول کرنا چاہئے تھا یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے شیریں فاطمہ کے پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے کسی عہدیدار نے رابطہ تک نہیں کیا حالانکہ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر کو اسلام آباد سے ہدایا ت جاری کردی تھیں کہ وہ شیریں فاطمہ کے کاغذات نامزدگی داخل کرنے میں ان سے تعاون کریں بعض لوگوں نے شیریں فاطمہ کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کرانے کی کوشش کی اور ان کے کاغذات پر اعتراض کیا تا ہم ریٹرننگ افسر نے اعتراضات کو مسترد کر دیئے شیریں فاطمہ کی نامزدگی پر پارٹی کارکن بہت خوش ہیں اور انہوں نے صدر آصف علی زرداری کے فیصلے کا خیر مقدم کیاہے کراچی میں بھی پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے شیریں فاطمہ کو مخصوص نشست دینے پر خوشی کا اظہار کیاہے شیریں فاطمہ کے خاندان کی پیپلزپارٹی کے لئے ان کی بے مثال قربانیوں سے آگاہ ہونے کے باوجود مخصوص نشست کیلئے صدر پاکستان کی جانب سے ان کی براہ راست نامزدگی پر پیپلزپارٹی کے مقامی قائدین خوش نہیں ہیں کیونکہ ان قائدین نے بے شمار خواتین کو مخصوص نشستوں پر منتخب کروانے کی یقین دہانی کرائی تھی

Leave a Comment »

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

WordPress.com پر بلاگ.

%d bloggers like this: